Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5003 (سنن أبي داود)

[5003]إسنادہ صحیح

أخرجہ الترمذي (2160 وسندہ صحیح) مشکوۃ المصابیح (2948)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

-حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ح،وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ،حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: لَا يَأْخُذَنَّ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ أَخِيہِ لَاعِبًا وَلَا جَادًّا. وَقَالَ سُلَيْمَانُ... لَعِبًا وَلَا جِدًّا،وَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِيہِ فَلْيَرُدَّہَا. لَمْ يَقُلِ ابْنُ بَشَّارٍ ابْنَ يَزِيدَ وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ.

جناب عبداللہ بن سائب بن یزید اپنے والد سے وہ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا ’’تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی کوئی چیز ہرگز نہ لے،نہ ہنسی مذاق میں اور نہ حقیقت میں سچے طور ہر۔‘‘ سلیمان (سلیمان بن عبدالرحمٰن) کے لفظ تھے ((لعبا ولا جدا)) ’’اور جس نے اپنے بھائی سے (کوئی) لاٹھی (بھی) لی ہو تو اسے واپس کر دے۔‘‘ محمد بن بشار نے (عبداللہ بن سائب کے نسب میں) ’’ابن یزید‘‘ نہیں کہا۔اور (((سمع النبی ﷺ یقول )) کی بجائے) ((قال رسول اللہ ﷺ)) کہا۔