Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5008 (سنن أبي داود)

[5008]إسنادہ حسن

مشکوۃ المصابیح (4803)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَہْرَانِيُّ أَنَّہُ قَرَأَ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ وَحَدَّثَہُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ابْنُہُ،قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي،قَالَ: حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ،عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ،قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو ظَبْيَةَ, أَنَّ عَمْرَو ابْنَ الْعَاصِ قَالَ يَوْمًا-وَقَامَ رَجُلٌ فَأَكْثَرَ الْقَوْلَ-،فَقَالَ عَمْرٌو: لَوْ قَصَدَ فِي قَوْلِہِ لَكَانَ خَيْرًا لَہُ! سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: لَقَدْ رَأَيْتُ-أَوْ-أُمِرْتُ أَنْ أَتَجَوَّزَ فِي الْقَوْلِ،فَإِنَّ الْجَوَازَ ہُوَ خَيْرٌ.

جناب ابوظبیہ (کلاعی حمصی) سے مروی ہے کہ ایک دن ایک آدمی نے خطاب کیا اور بہت باتیں کیں۔تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر یہ اپنی گفتگو میں میانہ روی اختیار کرتا تو اس کے لیے بہت بہتر ہوتا۔میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا،آپ ﷺ فرماتے تھے ’’تحقیق میں نے سمجھا ہے یا (فرمایا کہ) مجھے حکم دیا گیا ہے کہ گفتگو میں میانہ روی اختیار کروں۔بلاشبہ میانہ روی سراسر خیر ہے۔”