Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5031 (سنن أبي داود)

[5031] إسنادہ ضعیف

ترمذی (2740)

قال الحاکم:’’الوھم في روایۃ جریر (بن عبدالحمید) ھذا ظاہر،فإن ھلال بن یساف لم یدرک سالم بن عبید ولم یرہ وبینھما رجل مجہول‘‘ (المستدرک 267/4)

فالسند معلول

انوار الصحیفہ ص 174

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا جَرِيرٌ،عَنْ مَنْصُورٍ،عَنْ ہِلَالِ بْنِ يَسَافٍ،قَالَ: كُنَّا مَعَ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ،فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ،فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ،فَقَالَ سَالِمٌ: وَعَلَيْكَ وَعَلَی أُمِّكَ،ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: لَعَلَّكَ وَجَدْتَ مِمَّا قُلْتُ لَكَ؟! قَالَ: لَوَدِدْتُ أَنَّكَ لَمْ تَذْكُرْ أُمِّي بِخَيْرٍ وَلَا بِشَرٍّ! قَالَ: إِنَّمَا قُلْتُ: لَكَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ, إِنَّا بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ ﷺ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ،السَّلَامُ عَلَيْكُمْ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: وَعَلَيْكَ وَعَلَی أُمِّكَ،ثُمَّ قَالَ: إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَحْمَدِ اللہَ-قَالَ: فَذَكَرَ بَعْضَ الْمَحَامِدِ-, وَلْيَقُلْ لَہُ مَنْ عِنْدَہُ: يَرْحَمُكَ اللہُ،وَلْيَرُدَّ-يَعْنِي: عَلَيْہِمْ-: يَغْفِرُ اللہُ لَنَا وَلَكُمْ.

جناب ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا سالم بن عبید رضی اللہ عنہ کے ہاں بیٹھے تھے کہ مجلس میں سے کسی کو چھینک آئی تو اس نے کہا: ((السلام علیکم)) (تم پر سلامتی ہو) تو سیدنا سالم رضی اللہ عنہ نے کہا: تم پر اور تمہاری ماں پر بھی۔پھر اس کے بعد فرمایا شاید تمہیں میری بات ناگواری گزری ہے؟ اس نے کہا: آپ میری ماں کا کسی طور خیر یا شر کے ساتھ ذکر نہ کرتے تو اچھا تھا۔انہوں نے کہا: میں نے تم سے وہی بات کہی ہے جیسے رسول اللہ ﷺ نے کہی تھی۔ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ قوم میں سے کسی کو چھینک آ گئی تو اس نے کہا: ((السلام علیکم)) تو رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا ’’تم پر اور تمہاری ماں پر بھی۔‘‘ آپ ﷺ نے پھر فرمایا ’’جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو چاہیئے کہ ((الحمد اللہ)) ’’سب تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں‘‘ کہے۔راوی نے کہا کہ انہوں نے کچھ اور حمدوں کا ذکر بھی کیا۔اور جو دوسرا اس کے پاس ہو ‘ اسے چاہیئے کہ یوں کہے ((یرحمک اللہ)) ’’اﷲ تم پر رحم فرمائے‘‘ اور پھر چھینک مارنے والا ان لوگوں کو جواب دے ((یغفر اللہ لنا ولکم)) ’’اﷲ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں (سب کو) معاف فرما دے۔‘‘