Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5088 (سنن أبي داود)

[5088]صحیح

أخرجہ الترمذي (3388 وسندہ حسن) وانظر الحدیث الآتي (5059) مشکوۃ المصابیح (2391)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ،حَدَّثَنَا أَبُو مَوْدُودٍ عَمَّنْ سَمِعَ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ،يَقُولُ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ-يَعْنِي: ابْنَ عَفَّانَ-يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: مَنْ قَالَ: بِسْمِ اللہِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِہِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ،وَہُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ-ثَلَاثَ مَرَّاتٍ-, لَمْ تُصِبْہُ فَجْأَةُ بَلَاءٍ حَتَّی يُصْبِحَ،وَمَنْ قَالَہَا حِينَ يُصْبِحُ-ثَلَاثُ مَرَّاتٍ-, لَمْ تُصِبْہُ فَجْأَةُ بَلَاءٍ حَتَّی يُمْسِيَ. وقَالَ فَأَصَابَ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ الْفَالِجُ،فَجَعَلَ الرَّجُلُ الَّذِي سَمِعَ مِنْہُ الْحَدِيثَ يَنْظُرُ إِلَيْہِ! فَقَالَ لَہُ: مَا لَكَ تَنْظُرُ إِلَيَّ!؟ فَوَاللہِ مَا كَذَبْتُ عَلَی عُثْمَانَ،وَلَا كَذَبَ عُثْمَانُ عَلَی النَّبِيِّ ﷺ! وَلَكِنَّ الْيَوْمَ الَّذِي أَصَابَنِي فِيہِ مَا أَصَابَنِي غَضِبْتُ!! فَنَسِيتُ أَنْ أَقُولَہَا.

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ ﷺ سے سنا ‘ آپ ﷺ فرماتے تھے ’’جس نے (شام کو) تین بار یہ دعا پڑھ لی ‘ اسے صبح تک کوئی اچانک مصیبت نہیں آئے گی ((بسم اللہ الذی لا یضر مع اسمہ شیء فی الأرض ولا فی السماء وہو السمیع العلیم)) ’’اﷲ کے نام سے،وہ ذات کہ اس کے نام سے کوئی چیز زمین میں ہو یا آسمان میں ‘ نقصان نہیں دے سکتی اور وہ خوب سنتا ہے اور خوب جانتا ہے۔‘‘ اور جس نے صبح کے وقت تین بار یہ دعا پڑھ لی اسے شام تک کوئی اچانک مصیبت نہیں آئے گی۔‘‘ راوی نے بیان کیا کہ اس حدیث کے روایت کرنے والے ابان بن عثمان کو فالج ہو گیا تھا تو ان سے حدیث سننے والا،ان کو تعجب سے دیکھنے لگا (کہ پھر یہ فالج کیونکر ہو گیا؟) تو انہوں نے کہا: کیا ہوا ‘ مجھے دیکھتے کیا ہو؟ اﷲ کی قسم! میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر جھوٹ نہیں بولا ہے اور نہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اﷲ ﷺ پر جھوٹ بولا ہے۔لیکن جس دن مجھے یہ فالج ہوا میں اس دن غصے میں تھا اور یہ کلمات پڑھنا بھول گیا تھا۔