Sunan Abi Dawood Hadith 5111 (سنن أبي داود)
[5111]صحیح
صحیح مسلم (132)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ،حَدَّثَنَا زُہَيْرٌ،حَدَّثَنَا سُہَيْلٌ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،قَالَ: جَاءَہُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِہِ،فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا الشَّيْءَ،نُعْظِمُ أَنْ نَتَكَلَّمَ بِہِ،أَوِ الْكَلَامَ،بِہِ مَا نُحِبُّ أَنَّ لَنَا وَأَنَّا تَكَلَّمْنَا بِہِ؟! قَالَ: أَوَقَدْ وَجَدْتُمُوہُ؟،قَالُوا: نَعَمْ،قَالَ: ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ صحابہ کرام آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم اپنے دلوں میں کچھ ایسے خیالات محسوس کرتے ہیں کہ ان کو زبان پر لانا بھی ہمارے لیے بڑا بھاری ہے۔ہمیں یہ بھی گوارا نہیں کہ ہمیں دنیا کا مال ملے اور وہ ہم اپنی زبانوں پر لائیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’کیا بھلا تم یہ کیفیت پاتے ہو؟‘‘ انہوں نے کہا: ہاں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ صریح ایمان ہے۔‘‘