Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5112 (سنن أبي داود)

[5112]إسنادہ صحیح

مشکوۃ المصابیح (73)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ،قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ،عَنْ مَنْصُورٍ،عَنْ ذَرٍّ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّ أَحَدَنَا يَجِدُ فِي نَفْسِہِ يُعَرِّضُ بِالشَّيْءِ, لَأَنْ يَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيْہِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِہِ! فَقَالَ: اللہُ أَكْبَرُ،اللہُ أَكْبَرُ،اللہُ أَكْبَرُ،الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِي رَدَّ كَيْدَہُ إِلَی الْوَسْوَسَةِ. قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ رَدَّ أَمْرَہُ. مَكَانَ رَدَّ كَيْدَہُ.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! ہمارے دل میں کچھ خیالات آتے ہیں اور وہ اشارے کنائے سے کچھ اس طرح کہہ رہا تھا کہ ان خیالات کو زبان پر لانے کی بجائے کوئلہ ہو جانا اسے زیادہ پسند ہے۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ حدیث ((اللہ أکبر اللہ أکبر اللہ أکبر الحمد للہ الذی رد کیدہ إلی الوسوسۃ)) /حدیث حمد اس اللہ کی جس نے اس (ابلیس) کے مکر کو وسوسے کی طرف لوٹا دیا۔‘‘ ابن قدامہ نے ((رد کیدہ)) کی بجائے ((رد أمرہ)) کے لفظ کہے۔