Sunan Abi Dawood Hadith 5119 (سنن أبي داود)
[5119] ضعیف جدًا
سلمۃ بن بشیر الدمشقي مقبول (تقریب: 2485) أي مجہول الحال،لم یوثقہ غیر ابن حبان
وبینہ وبین واثلۃ: عباد ابن کثیر: وھو متروک (تقریب: 3139)
ومن طریقہ أخرجہ ابن ماجہ (3949)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ،حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ،حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ بِشْرٍ الدِّمَشْقِيُّ،عَنْ بِنْتِ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ, أَنَّہَا سَمِعَتْ أَبَاہَا يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! مَا الْعَصَبِيَّةُ؟ قَالَ: أَنْ تُعِينَ قَوْمَكَ عَلَی الظُّلْمِ.
جناب واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! عصبیت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ کہ تو اپنی قوم کے لوگوں کی مدد کرے،حالانکہ وہ ظلم پر ہوں۔‘‘