Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5142 (سنن أبي داود)

[5142]إسنادہ حسن

أخرجہ ابن ماجہ (3664 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (4936)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ مَہْدِيٍّ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْمَعْنَی قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ مَوْلَی بَنِي سَاعِدَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ السَّاعِدِيِّ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ ﷺ إِذْ جَاءَہُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ ہَلْ بَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ شَيْءٌ أَبَرُّہُمَا بِہِ بَعْدَ مَوْتِہِمَا قَالَ نَعَمْ الصَّلَاةُ عَلَيْہِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ لَہُمَا وَإِنْفَاذُ عَہْدِہِمَا مِنْ بَعْدِہِمَا وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِہِمَا وَإِكْرَامُ صَدِيقِہِمَاجناب ابواسید مالک بن ربیعہ ساع

جناب ابواسید مالک بن ربیعہ ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار اتفاق سے ہم رسول اللہ ﷺ کے ہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ قبیلہ بنو سلمہ کا ایک آدمی آپ ﷺ کے پاس آیا اور ?؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ہاں۔ان کے لیے دعا کرنا،ان کے لیے بخشش مانگنا،ان کے بعد ان کے عہد کو پورا کرنا،ایسے رشتہ داروں سے میل ملاپ رکھنا کہ ان (ماں باپ) کے بغیر ان سے ملاپ نہ ہو سکتا تھا اور ان کے دوست کی عزت کرنا۔