Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5157 (سنن أبي داود)

[5157]صحیح

صحیح بخاری (6050) صحیح مسلم (1661)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْہَدٍ وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَہُمْ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ لِي جَارَيْنِ بِأَيِّہِمَا أَبْدَأُ قَالَ بِأَدْنَاہُمَا بَابًا قَالَ أَبُو دَاوُد قَالَ شُعْبَةُ فِي ہَذَا الْحَدِيثِ طَلْحَةُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ

جناب معرور بن سوید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو ربذہ مقام میں دیکھا،وہ ایک موٹی اونی چادر اوڑھے ہوئے تھے اور ان کے غلام پر بھی اسی طرح کی چادر تھی۔ہمارے ساتھیوں نے کہا: اے ابوذر! اگر آپ غلام والی چادر خود لے لیتے تو اس طرح آپ کا یہ حلہ (پورا جوڑا) بن جاتا۔غلام کو آپ کوئی اور کپڑا لے دیتے۔تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے ایک آدمی کو گالی دی تھی جس کی ماں عجمی تھی۔میں نے اس کو اس کی ماں کا طعنہ دیا تو اس نے رسول اللہ ﷺ کے ہاں میری شکایت کر دی۔تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’اے ابوذر! تو ایسا آدمی ہے جس میں جاہلیت کا اثر ہے۔‘‘ آپ ﷺ نے مزید فرمایا ’’بلاشبہ یہ (غلام) تمہارے بھائی ہیں۔اللہ نے تم کو ان پر فضیلت بخشی ہے۔پس جس کے ساتھ تمہاری طبیعت نہ ملتی ہو،تو اسے بیچ دو لیکن اللہ کی مخلوق کو دکھ نہ دو۔