Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5231 (سنن أبي داود)

[5231] إسنادہ ضعیف

قال المنذري:’’ھذا الإسنادفیہ مجاہیل‘‘ (عون المعبود 528/4)

وانظرالحدیث السابق (2934)

انوار الصحیفہ ص 181

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ غَالِبٍ قَالَ إِنَّا لَجُلُوسٌ بِبَابِ الْحَسَنِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ بَعَثَنِي أَبِي إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالَ ائْتِہِ فَأَقْرِئْہُ السَّلَامَ قَالَ فَأَتَيْتُہُ فَقُلْتُ إِنَّ أَبِي يُقْرِئُكَ السَّلَامَ فَقَالَ عَلَيْكَ السَّلَامُ وَعَلَی أَبِيكَ السَّلَامُ

جناب غالب (غالب بن خطاف بصری) نے بیان کیا کہ ہم جناب حسن بصری کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ مجھے میرے والد نے میرے دادا سے روایت کیا،اس نے کہا: میرے والد نے مجھ کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا اور کہا کہ آپ ﷺ کے پاس جاؤ اور آپ ﷺ کو میرا سلام کہنا۔چنانچہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے والد نے آپ کو سلام کہا ہے۔تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’((علیک وعلی أبیک السلام)) تم پر اور تمہارے والد پر سلامتی ہو۔‘‘