Sunan Abi Dawood Hadith 5252 (سنن أبي داود)
[5252]صحیح
صحیح بخاری (3297) صحیح مسلم (2233)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيہِ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّہُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ وَيُسْقِطَانِ الْحَبَلَ قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللہِ يَقْتُلُ كُلَّ حَيَّةٍ وَجَدَہَا فَأَبْصَرَہُ أَبُو لُبَابَةَ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَہُوَ يُطَارِدُ حَيَّةً فَقَالَ إِنَّہُ قَدْ نُہِيَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ
جناب سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’سب قسم کے سانپوں کو مار ڈالا کرو۔وہ بھی جس کی پشت پر سیاہ (یا سفید) رنگ کی دو لکیریں ہوتی ہیں اور جس کی دم نہیں ہوتی۔بلاشبہ یہ نظر زائل کر دیتے ہیں (جس کے ساتھ ان کی نظر مل جائے) اور یہ حمل گرانے کا باعث بھی بنتے ہیں۔‘‘ چنانچہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ جس سانپ کو بھی پاتے،اسے قتل کر ڈالتے تھے۔چنانچہ سیدنا ابولبابہ یا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھا کہ وہ سانپ کو ڈھونڈ رہے تھے،تو انہوں نے بیان کیا کہ یہ جو گھروں میں رہنے والے سانپ ہیں ان کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔