Sunan Abi Dawood Hadith 54 (سنن أبي داود)
[54] إسنادہ ضعیف
ابن ماجہ (294)
علي بن زید بن جدعان: ضعیف (تقریب التہذیب: 4734)
وقال البوصیری: ’’والجمھور علی تضعیفہ‘‘ (زوائد ابن ماجہ:228)
وقال الھیثمی:وضعفہ الجمھور (مجمع الزوائد206/8،209)
قلت: تناقض الھیثمی فیہ وقولہ ھھنا ھوالصواب.
والحدیث السابق (الأصل: 53 صحیح) یغني عنہ.
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ وَدَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ مُوسَی عَنْ أَبِيہِ و قَالَ دَاوُدُ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ إِنَّ مِنْ الْفِطْرَةِ الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ فَذَكَرَ نَحْوَہُ وَلَمْ يَذْكُرْ إِعْفَاءَ اللِّحْيَةِ وَزَادَ وَالْخِتَانَ قَالَ وَالِانْتِضَاحَ وَلَمْ يَذْكُرْ انْتِقَاصَ الْمَاءِ يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَرُوِيَ نَحْوُہُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَالَ خَمْسٌ كُلُّہَا فِي الرَّأْسِ وَذَكَرَ فِيہَا الْفَرْقَ وَلَمْ يَذْكُرْ إِعْفَاءَ اللِّحْيَةِ قَالَ أَبُو دَاوُد وَرُوِيَ نَحْوُ حَدِيثِ حَمَّادٍ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ وَمُجَاہِدٍ وَعَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْمُزَنِيِّ قَوْلُہُمْ وَلَمْ يَذْكُرُوا إِعْفَاءَ اللِّحْيَةِ وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ فِيہِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ وَعَنْ إِبْرَاہِيمَ النَّخَعِيِّ نَحْوُہُ وَذَكَرَ إِعْفَاءَ اللِّحْيَةِ وَالْخِتَانَ
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’یہ چیزیں فطری امور میں شامل ہیں یعنی کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا۔‘‘ اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند ذکر کیا مگر اس میں ڈاڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں بلکہ ختنے کا ذکر مزید ہے۔اور ان کی روایت میں ((انتضاح)) کا لفظ بیان کیا گیا ہے،((انتقاص الماء)) کا لفظ نہیں کہا گیا۔((انتضاح)) کے معنی ہیں بعد از وضو شرمگاہ کے مقام پر چھینٹے مارنا اور ((انتقاص)) کے معنی پانی کے ساتھ استنجاء کرنا کے ہیں۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پانچ امور (فطرت) سر سے متعلق ہیں۔انہوں نے مانگ نکالنے کا ذکر کیا اور ڈاڑھی چھوڑنے کا نہیں کیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حماد کی مذکورہ بالا روایت کی طرح طلق بن حبیب،مجاہد اور بکر بن عبداللہ مزنی سے ان کے موقوف اقوال مروی ہیں۔انہوں نے بھی ڈاڑھی بڑھانے کا ذکر نہیں کیا۔اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث،جو وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں اس میں ڈاڑھی بڑھانے کا ذکر آیا ہے۔اور ابراہیم نخعی سے اسی طرح مروی ہے اور اس میں ڈاڑھی بڑھانے اور ختنے کا ذکر ہے۔