Sunan Abi Dawood Hadith 563 (سنن أبي داود)
[563] إسنادہ ضعیف
معبد بن ھرمز مجہول الحال،وثقہ ابن حبان وحدہ
والحدیث الآتي (الأصل: 564) یغني عنہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ عَبَّادٍ الْعَنْبَرِيُّ،حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ،عَنْ يَعْلَی بْنِ عَطَاءٍ،عَنْ مَعْبَدِ بْنِ ہُرْمُزَ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،قَالَ: حَضَرَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ الْمَوْتُ،فَقَالَ: إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا مَا أُحَدِّثُكُمُوہُ إِلَّا احْتِسَابًا: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ،ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الصَّلَاةِ لَمْ يَرْفَعْ قَدَمَہُ الْيُمْنَی, إِلَّا كَتَبَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُ حَسَنَةً،وَلَمْ يَضَعْ قَدَمَہُ الْيُسْرَی, إِلَّا حَطَّ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْہُ سَيِّئَةً،فَلْيُقَرِّبْ أَحَدُكُمْ أَوْ لِيُبَعِّدْ, فَإِنْ أَتَی الْمَسْجِدَ فَصَلَّی فِي جَمَاعَةٍ غُفِرَ لَہُ, فَإِنْ أَتَی الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّوْا بَعْضًا وَبَقِيَ بَعْضٌ صَلَّی مَا أَدْرَكَ،وَأَتَمَّ مَا بَقِيَ كَانَ كَذَلِكَ, فَإِنْ أَتَی الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّوْا فَأَتَمَّ الصَّلَاةَ كَانَ كَذَلِكَ.
جناب سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری کی موت کا وقت آ گیا تو اس نے کہا: میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں اور محض اجر کے لیے سناتا ہوں۔میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے ’’جب تم میں سے کوئی وضو کرتا ہے اور اچھی طرح کرتا ہے پھر نماز کے لیے نکلتا ہے تو جب وہ اپنا دایاں قدم اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور وہ بایاں قدم نہیں ٹکاتا کہ اللہ عزوجل اس کی ایک غلطی معاف کر دیتا ہے۔تو جو چاہے (مسجد کے) قریب رہے یا بعید (تمہاری مرضی ہے)۔اگر وہ مسجد میں آ کر جماعت کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔اگر وہ مسجد میں آیا اور لوگ کچھ نماز پڑھ چکے تھے اور کچھ باقی تھے تو جو اسے مل گئی اس نے ان کے ساتھ پڑھی اور باقی کو پورا کر لیا تو ایسے ہی ہو گا۔(یعنی اس کی بھی مغفرت ہو گی)۔اور اگر وہ مسجد میں آیا اور لوگ نماز پڑھ چکے تھے پھر اس نے (اکیلے ہی) نماز پوری کی تو بھی ایسے ہی ہو گا۔(یعنی بخشا جائے گا)۔