Sunan Abi Dawood Hadith 564 (سنن أبي داود)

[564]إسنادہ حسن

محصن بن علي کو ابن حبان نے ثقہ کہا اور حاکم والذھبي نے اس کی حدیث کی تصحیح کی ہے لہٰذا یہ حدیث حسن ہے (دروس أبي داود: 564) مشکوۃ المصابیح (1145)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ،عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ طَحْلَاءَ،عَنْ مُحْصِنِ بْنِ عَلِيٍّ،عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّم:َ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَہُ،ثُمَّ رَاحَ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا, أَعْطَاہُ اللہُ جَلَّ وَعَزَّ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ صَلَّاہَا وَحَضَرَہَا،لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أَجْرِہِمْ شَيْئًا.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا (یعنی سنت کے مطابق کامل وضو) پھر (مسجد کی طرف) گیا مگر لوگوں کو پایا کہ وہ نماز سے فارغ ہو چکے ہیں تو اللہ عزوجل ایسے بندے کو بھی اتنا ہی اجر عنایت فرماتا ہے جتنا کہ اس کو جس نے جماعت میں حاضر ہو کر نماز پڑھی ہو۔اور یہ ان کے اجروں میں کسی کمی کا باعث نہیں ہوتا۔‘‘

قال معاذ علي زئي: ذکرہ ابن حبان فی الثقات (5/ 458 وقال: ’’يروي المراسيل‘‘) وقال الحاکم في حدیثہ: ((ہذا حديث صحيح علی شرط مسلم،ولم يخرجاہ)) (المستدرک: 754،إتحاف المھرۃ: 19665) وقال الذھبي في حدیثہ: ’’علی شرط مسلم‘‘ (تلخیص المستدرک: 754) وقال النووي في حدیثہ: ’’رواہ أبو داود،والنسائي بإسناد حسن‘‘ (خلاصۃ الأحکام: 2294) وقال ابن کثیر في حدیثہ: ’’رواہ أحمد،وأبو داود،والنسائي بإسناد جيد،لا بأس بہ‘‘ (إرشاد الفقیہ: 1/ 169) وقال الہيثمي في حدیثہ: ’’ورجال الأوسط وثقوا‘‘ (مجمع الزوائد: 10/ 80 ح 16793) وقال المنذري في حدیثہ: ’’رواہ البزار والطبراني في الكبير والأوسط بإسناد لا بأس بہ‘‘ (الترغیب والترھیب: 2/ 338) ووقع في تحفۃ اللبیب (2/ 82) أن ابن حجر العسقلاني قال في حديثہ: ’’إسنادہ قوي‘‘ (فتح الباري 6/ 159)