Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 76 (سنن أبي داود)

[76] إسنادہ ضعیف

أم داود بن صالح لم أجد لھا ترجمۃ

وقال الطحاوی في مشکل الآثار (270/3): ’’ولا ھي معروفۃ عند أھل العلم‘‘

ولبعض الحدیث شاہد ضعیف في سنن ابن ماجہ (368)

انوار الصحیفہ ص 16

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ التَّمَّارِ عَنْ أُمِّہِ أَنَّ مَوْلَاتَہَا أَرْسَلَتْہَا بِہَرِيسَةٍ إِلَی عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا فَوَجَدَتْہَا تُصَلِّي فَأَشَارَتْ إِلَيَّ أَنْ ضَعِيہَا فَجَاءَتْ ہِرَّةٌ فَأَكَلَتْ مِنْہَا فَلَمَّا انْصَرَفَتْ أَكَلَتْ مِنْ حَيْثُ أَكَلَتْ الْہِرَّةُ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ إِنَّہَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا ہِيَ مِنْ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَتَوَضَّأُ بِفَضْلِہَا

داود بن دینار التمار اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی والدہ کی مالکہ نے اسے (یعنی ام داود کو) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ہریسہ (ایک قسم کا کھانا) دے کر بھیجا تو اس نے انہیں نماز پڑھتے پایا۔انہوں نے (اثنائے نماز ہی میں) اشارہ کیا کہ رکھ دے۔چنانچہ (اسی دوران میں) ایک بلی آئی اور اس میں سے کچھ کھا گئی،جب وہ نماز سے فارغ ہوئیں تو انہوں نے وہیں سے کھانا شروع کر دیا جہاں سے بلی نے کھایا تھا اور بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’یہ نجس نہیں ہے،یہ تو تم پر گھومنے پھرنے والے جانوروں میں سے ہے۔‘‘ اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ وہ اس کے جوٹھے پانی سے وضو کر لیا کرتے تھے۔