Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 84 (سنن أبي داود)

[84] إسنادہ ضعیف

ترمذی (88)،ابن ماجہ (384)

قال الترمذي: ’’وأبو زید ھذا رجل مجھول عند أھل الحدیث‘‘

والحدیث ضعفہ ابن حبان (المجروحین 158/3)

قال معاذ علي زئي:

وقال أحمد بن حنبل: ’’ذاک لیس لہ إسناد‘‘ (مسائل حرب الکرماني: 3/ 1274 الرقم: 2181) یعني ضعفہ،واللہ أعلم.

انوار الصحیفہ ص 16

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي فَزَارَةَ عَنْ أَبِي زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لَہُ لَيْلَةَ الْجِنِّ مَا فِي إِدَاوَتِكَ قَالَ نَبِيذٌ قَالَ تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَہُورٌ قَالَ أَبُو دَاوُد و قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَنْ أَبِي زَيْدٍ أَوْ زَيْدٍ كَذَا قَالَ شَرِيكٌ وَلَمْ يَذْكُرْ ہَنَّادٌ لَيْلَةَ الْجِنِّ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے جنوں والی رات پوچھا کہ ’’تمہارے برتن میں کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا: نبیذ (یعنی کھجور کا شربت) ہے۔تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’کھجور پاکیزہ پھل ہے اور پانی پاک ہے۔‘‘ سلیمان بن داود کی روایت میں ہے کہ شریک کو وہم ہوا اور انہوں نے ابوزید یا زید کہا۔(جبکہ ہناد کو وہم نہیں ہوا،اس نے ابوزید ہی کہا۔) ایسے ہی ہناد کی روایت میں ((لیلۃ الجن)) کا ذکر نہیں ہے (اور سلیمان کی روایت میں موجود ہے)۔