Sunan Abi Dawood Hadith 88 (سنن أبي داود)
[88]إسنادہ صحیح
عروۃ صرح بالسماع عند البخاری فی تاریخ کبیر (5/33) وسندہ صحیح مشکوۃ المصابیح (1069)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَيْرٌ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْأَرْقَمِ أَنَّہُ خَرَجَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا وَمَعَہُ النَّاسُ وَہُوَ يَؤُمُّہُمْ فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَقَامَ الصَّلَاةَ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ قَالَ لِيَتَقَدَّمْ أَحَدُكُمْ وَذَہَبَ إِلَی الْخَلَاءِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَذْہَبَ الْخَلَاءَ وَقَامَتْ الصَّلَاةُ فَلْيَبْدَأْ بِالْخَلَاءِ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَی وُہَيْبُ بْنُ خَالِدٍ وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ وَأَبُو ضَمْرَةَ ہَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَہُ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَرْقَمَ وَالْأَكْثَرُ الَّذِينَ رَوَوْہُ عَنْ ہِشَامٍ قَالُوا كَمَا قَالَ زُہَيْرٌ
سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حج یا عمرے کے لیے نکلے۔ان کی معیت میں کچھ لوگ بھی تھے اور وہ ان کے امام تھے۔ایک دن نماز فجر کی اقامت ہوئی تو انہوں نے کہا کہ تم میں سے کوئی آگے ہو۔(اور نماز پڑھائے) اور خود قضائے حاجت کے لیے چل دیے اور کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے ’’جب تم میں سے کسی کو بیت الخلاء جانے کی حاجت ہو اور نماز بھی کھڑی ہو رہی ہو تو چاہیئے کہ وہ پہلے قضائے حاجت کے لیے جائے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہیب بن خالد،شعیب بن اسحاق اور ابوضمرہ نے یہ حدیث ((ہشام بن عروۃ عن أبیہ عن رجل حدثہ عن عبد اللہ بن أرقم)) کی سند سے روایت کی ہے (یعنی اس میں ((عن رجل)) کا اضافہ ہے) مگر ہشام کے اکثر شاگرد اسی طرح روایت کرتے ہیں جیسے کہ (مذکورہ الصدر روایت میں) زہیر نے (((عن رجل)) کے واسطے کے بغیر) روایت کیا ہے۔