Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 90 (سنن أبي داود)

[90]حسن

اسماعیل بن عیاش صرح بالسماع من شیخ الشامی عند الترمذی (357) وروایتہ عن الشامیین مقبولۃ عند الجمہور ویزید بن شریح: حسن الحدیث وثقہ ابن حبان والترمذی وغیرھما، وانظر الحدیث الآتی وابن ماجہ (619، 923) مشکوۃ المصابیح (1070)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ ثَلَاثٌ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَفْعَلَہُنَّ لَا يَؤُمُّ رَجُلٌ قَوْمًا فَيَخُصُّ نَفْسَہُ بِالدُّعَاءِ دُونَہُمْ فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَہُمْ وَلَا يَنْظُرُ فِي قَعْرِ بَيْتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْتَأْذِنَ فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ دَخَلَ وَلَا يُصَلِّي وَہُوَ حَقِنٌ حَتَّی يَتَخَفَّفَ

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تین کام کسی کو روا نہیں ہیں۔یعنی کوئی شخص کسی قوم کی امامت کرائے تو اہل جماعت کو چھوڑ کر خاص اپنے لیے دعا نہ کرے۔اگر ایسا کیا تو ان سے خیانت کی۔اجازت ملنے سے پہلے ہی کسی کے گھر کے اندر نہ جھانکے۔اگر ایسا کیا تو گویا (بغیر اجازت) اندر داخل ہوا۔کوئی شخص پیشاب پاخانہ روکے ہوئے نماز نہ پڑھے حتیٰ کہ فراغت حاصل کر لے۔‘‘