Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 91 (سنن أبي داود)

[91]حسن

وللحدیث شواھد منھا الحدیث السابق (90)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السُّلَمِيُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا ثَوْرٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ يُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يُصَلِّيَ وَہُوَ حَقِنٌ حَتَّی يَتَخَفَّفَ ثُمَّ سَاقَ نَحْوَہُ عَلَی ہَذَا اللَّفْظِ قَالَ وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ يُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَؤُمَّ قَوْمًا إِلَّا بِإِذْنِہِمْ وَلَا يَخْتَصُّ نَفْسَہُ بِدَعْوَةٍ دُونَہُمْ فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَہُمْ قَالَ أَبُو دَاوُد ہَذَا مِنْ سُنَنِ أَہْلِ الشَّامِ لَمْ يُشْرِكْہُمْ فِيہَا أَحَدٌ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ’’جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ پیشاب پاخانہ روکے ہوئے نماز پڑھے،حتیٰ کہ فارغ ہو جائے۔‘‘ پھر جناب ثور نے مذکورہ بالا حدیث کی مانند بیان کیا۔اور کہا کہ (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا) ’’جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے حلال نہیں کہ بغیر اجازت کے کسی قوم کی امامت کرائے اور نہ اہل جماعت کو چھوڑ کر خاص اپنے ہی لیے دعا کرے۔اگر ایسا کرے تو ان سے خیانت کی۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ سند اہل شام کی اسانید میں سے ہے،اس میں ان کا کوئی شریک نہیں (سوائے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے)۔