zubair ali zai

وحدت الوجود کے ایک پیروکار ’’حسین بن منصور الحلاج‘‘ کے بارے میں تحقیق

تحریر: محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ


حسین بن منصور الحلاج، جسے جاہل لوگ منصور الحلاج کے نام سے یادکرتے ہیں، کا مختصر و جامع تعارف درج ذیل ہے:

1- حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’المقتول علی الزندقۃ، ماروی وللّٰہ الحمد شیئًا من العلم، وکانت لہ بدایۃ جیّدۃ وتألّہ وتصوّف، ثم انسلخ من الدین، وتعلم السحر وأراھم المخاریق، أباح العلماء دمہ فقتل سنۃ احدی عشرۃ و ثلا ثمائۃ‘‘

اسے زندیق ہونے کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے علم کی کوئی چیز روایت نہیں کی۔ اُس کی ابتدائی حالت (بظاہر) اچھی تھی، عبادت گزاری اور تصوف (کا اظہار کرتا تھا) پھر وہ دین (اسلام) سے نکل گیا، جادو سیکھا اور (استدراج کرتے ہوئے) خرق عادت چیزیں لوگوں کو دکھائیں، علماء کرام نے فتویٰ دیا کہ اس کا خون (بہانا) جائز ہے لہٰذا اُسے 311ھ میں قتل کیا گیا۔

(میزان الاعتدال ج 1 ص 548)

2- حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’والناس مختلفون فیہ، وأکثرھم علی أنہ زندیق ضال‘‘

لوگوں کا اس (حسین بن منصور الحلاج) کے بارے میں اختلاف ہے، اکثریت کے نزدیک وہ زندیق گمراہ (تھا) ہے۔

(لسان المیزان ج 2 ص 314 والنسخۃ المحققۃ 2/ 582)

دورِ متاخرین میں اسماء الرجال کے ان دو جلیل القدر اماموں اور اسماء الرجال کی دو مشہور ترین کتابوں سے جمہور علماء کے نزدیک حلاج مذکور کا زندیق و گمراہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔

3- جلیل القدر امام ابوعمر محمد بن العباس بن محمد بن زکریا بن یحییٰ البغدادی (ابن حیویہ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’لما أخرج حسین الحلاج لیقتل مضیت في جملۃ النّاس، ولم أزل أزاحم حتی رأیتہ، فقال لأصحابہ: لا یھولنم ھذا، فإني عائد إلیکم بعد ثلاثین یومًا، ثم قتل‘‘

جب حسین (بن منصور) حلاج کو قتل کے لئے (جیل سے) نکالا گیا تو میں بھی لوگوں کے ساتھ (اُسے دیکھنے کے لئے) گیا، میں نے لوگوں کے رش کے باوجود اُسے دیکھ لیا، وہ اپنے ساتھیوں سے کہہ رہا تھا: ’’تم اس سے نہ ڈرنا، میں تیس (30) دنوں کے بعد تمھارے پاس دوبارہ (زندہ ہو کر) آجاؤں گا‘‘ پھر وہ قتل کر دیا گیا۔

(تاریخ بغداد ج 8 ص 131 ت 4232 وسندہ صحیح، المنتظم لابن الجوزی 13/ 406 وقال: ’’وھذا الإسناد صحیح لاشک فیہ‘‘ لسان المیزان 2/ 315 وقال: ’’وإسناد ھا صحیح‘‘)

اس صحیح سند سے معلوم ہوا کہ حسین بن منصور حلاج جھوٹا شخص تھا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’وعند جماھیر المشائخ الصوفیۃ وأھل العلم أن الحلاج لم یکن من المشائخ الصالحین، بل کان زندیقًا‘‘

جمہور مشائخِ تصوف اور اہلِ علم (علمائے حق) کے نزدیک حلاج نیک لوگوں میں سے نہیں تھا بلکہ زندیق (بہت بڑا ملحد وگمراہ) تھا۔

(مجموع فتاویٰ ج 8 ص 318)

شیخ الاسلام (ابن تیمیہ) نے فرمایا:

’’الحمدللّٰہ رب العالمین، الحلاج قتل علی الزندقۃ‘‘

اللہ رب العالمین کا شکر ہے، حلاج کو زندیق ہونے کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا۔

(مجموع فتاویٰ 35/ 108)

شیخ الاسلام (ابن تیمیہ) نے مزید فرمایا:

’’وکذلک من لم یجوز قتل مثلہ فھو مارق من دین الإسلام‘‘

اور اسی طرح جو شخص حلاج کے قتل کو جائز نہیں سمجھتا تو وہ (شخص) دین اسلام سے خارج ہے۔

(مجموع فتاویٰ ج 2 ص 486)

4- حافظ ابن الجوزی نے اس (حسین بن منصور) کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے ’’القاطع المحال اللجاج القاطع بمحال الحلاج‘‘ (المنتطم 13/ 204)

ابن جوزی فرماتے ہیں:

’’أنہ کان مُمَخْرِقًا‘‘

بے شک وہ جھوٹا باطل پرست تھا۔

(القاطع المحال اللجاج القاطع بمحال الحلاج 13/ 206)

ان شدید جرحوں کے مقابلے میں حلاج مذکور کی تعریف و توثیق ثابت نہیں ہے۔

ظفر احمد عثمانی تھانوی دیوبندی صاحب نے اشرف علی تھانوی دیوبندی صاحب کی زیرِ نگرانی ایک کتاب لکھی ہے ’’القول المنصور فی ابن منصور، سیرت منصور حلاج‘‘ یہ کتاب مکتبہ دارالعلوم کراچی نمبر 14 سے شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں تھانوی صاحب نے موضوع، بے اصل اور مردود روایات جمع کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ (دیوبندیوں کے نزدیک) حسین بن منصور حلاج اچھا آدمی تھا۔(!)

مثال نمبر 1: تھانوی صاحب نے لکھا ہے:’’لوگوں کے اسرار بیان کر دیتے، ان کے دلوں کی باتیں بتلا دیتے (یعنی کشف ضمائر بھی حاصل تھا) اسی وجہ سے ان کو حلاج الاسرار کہنے لگے، پھر حلاج لقب پڑ گیا‘‘ (سیرت منصور حلاج ص 31)

تبصرہ: اس قول کی بنیاد تاریخ بغداد کی ایک روایت ہے جسے احمد بن الحسین بن منصور نے تستر میں بیان کیا تھا (ج 8 ص 113) احمد بن الحسین بن منصور کے حالات معلوم نہیں ہیں لہٰذا یہ شخص مجہول ہے۔

مثال نمبر 2: تھانوی صاحب نے لکھا ہے:’’حسین بن منصور نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے لئے حدوث کو لازم کر دیا ہے……‘‘ (سیرت منصور حلاج ص 47 بحوالہ رسالہ قشیریہ)

عبدالکریم بن ہوازن القشیری کے الرسالۃ القشیریۃ میں یہ عبارت بحوالہ ابو عبدالرحمٰن (محمد بن الحسین) السلمی النیسابوری لکھی ہوئی ہے۔ (ص 13 مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان)

ابو عبدالرحمٰن السلمی اگرچہ اپنے عام شہر والوں اور اپنے مریدوں کے نزدیک جلیل القدر تھا مگر اسی شہر کے محدث محمد بن یوسف القطان النیسابوری (وکان صدوقًا، لہ معرفۃ بالحدیث وقد درس شیئًا من فقہ الشافعي، ولہ مذھب مستقیم وطریقۃ جمیلۃ / تاریخ بغداد 3/ 411) فرماتے ہیں:

’’کان أبو عبدالرحمٰن السلمي غیرثقۃ…… وکان یضع للصوفیۃ الأحادیث‘‘

ابو عبدالرحمٰن السلمی غیر ثقہ تھا…… اور وہ صوفیوں کے لئے احادیث گھڑتا تھا۔

(تاریخ بغداد ج 2 ص 248 وسندہ صحیح)

اس شدید جرح کے مقابلے میں سلمی مذکور کی تعدیل بطریقۂ محدثین ثابت نہیں ہے۔

سلمی کے استاد محمد بن محمد بن غالب اور اس کے استاد ابو نصر احمد بن سعید الاسفنجانی کی توثیق بھی مطلوب ہے۔

خلاصہ یہ کہ اس موضوع سند کو تھانوی صاحب نے فخریہ پیش کیا ہے۔

تنبیہ بلیغ: عبدالکریم بن ہوازن نے رسالہ قشیریہ میں حسین الحلاج کو بطورِ ولی ذکر نہیں کیا۔ رسالہ قشیریہ اس کے ترجمہ سے خالی ہے۔ کسی دوسرے شخص کے حالات میں ذیلی طور پر اگر ایک موضوع روایت میں اُس کا نام آگیا ہے تو اس پر خوشی نہیں منانی چاہئے۔

خلاصۃ التحقیق: حسین بن منصور الحلاج اولیاء اللہ میں سے نہیں تھا بلکہ وہ ایک گمراہ و زندیق صوفی تھا جسے جلیل القدر فقہاء اسلام کے متفقہ فتوے کی بنیاد پر چوتھی صدی ہجری کے شروع میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کی کرامتوں کے بارے میں سارے قصے موضوع و بے اصل ہیں۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’ولا أری یتعصب للحلاج إلا من قال بقولہ الّذي ذکر أنہ عین الجمع فھذا ھو قول أھل الوحدۃ المطلقۃ ولھذا تری ابن عربي صاحب الفصوص یعظمہ ویقع فی الجنید واللہ الموفق‘‘

میری رائے میں حلاج کی حمایت ان لوگوں کے سوا کوئی نہیں کرتا جو اس کی اس بات کے قائل ہیں جس کو وہ عین جمع کہتے ہیں اور یہی اہل وحدت مطلقہ کا قول ہے اس لئے تم ابن عربی صاحب فصوص کو دیکھو گے کہ وہ حلاج کی تو تعظیم کرتے ہیں اور جنید کی تحقیر کرتے ہیں۔

(لسان المیزان ج 2 ص 315، وسیرت منصورحلاج ص 45 حاشیہ)

اہلِ وحدت مطلقہ سے مراد وہ صوفی حضرات ہیں جو وحدت الوجود اور حلولیت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ تعالی اللہ عمّا یقولون علوًا کبیرًا

اس قول کا رد ظفر احمد تھانوی صاحب نے رسالہ قشیریہ کی موضوع روایت سے کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ رد تحقیقی میدان میں بذاتِ خود مردود ہے۔ تھانوی صاحب نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ’’ابن منصور اور جنید کا عقیدہ توحید ایک ہی تھا‘‘ [ص46] مگر انھوں نے اس دعویٰ پر کوئی صحیح دلیل پیش نہیں کی۔ علمی میدان میں عبدالوہاب الشعرانی، خرافی صوفی بدعتی کے بے سند حوالوں سے کام نہیں چلتا بلکہ صحیح و ثابت سندوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

’’الحدیث‘‘ حضرو کا یہ امتیاز ہے کہ ’’الحدیث‘‘ میں صرف صحیح و ثابت حوالہ ہی بطورِ استدلال لکھا جاتا ہے۔ اسماء الرجال کے حوالے بھی اصل کتابوں سے صحیح و ثابت سندوں کے ساتھ پیش کئے جاتے ہیں۔ ضعیف روایات اور ضعیف حوالوں کی ہمیں ضرورت ہی نہیں ہے۔ والحمدللّٰہ علٰی ذلک

رسول اللہ ﷺ کی احادیث ہوں یا سلف صالحین کے آثار و اسماء الرجال کے حوالے، سب کے لئے صحیح و حسن لذاتہ اسانید کی ضرورت ہے۔

شیخ الاسلام عبداللہ بن المبارک المروزی رحمہ اللہ (متوفی 181ھ) فرماتے ہیں:

’’الإسناد من الدّین، ولولا الإسناد لقال من شاء ما شاء‘‘

سند دین میں سے ہے، اگر سند نہ ہوتی تو جو شخص جو چاہتا کہہ دیتا۔

(مقدمہ صحیح مسلم ترقیم دارالسلام: 32 وسندہ صحیح)

……………… اصل مضمون ………………

اصل مضمون کے لئے دیکھئے فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (جلد 1 صفحہ 159 تا 163) للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

ہماری موبائل ایپ انسٹال کریں۔ تحقیقی مضامین اور تحقیقی کتابوں کی موجودہ وقت میں ان شاء اللہ سب سے بہترین ایپ ہے، والحمدللہ۔

دیگر بلاگ پوسٹس:

  1. ایمان میں کمی بیشی کا مسئلہ
  2. حالتِ سجدہ میں ہاتھوں کی انگلیاں ملانا؟
  3. سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مقام
  4. قرآن و حدیث کو تمام آراء و فتاویٰ پر ہمیشہ ترجیح حاصل ہے
  5. قربانی کا گوشت اور غیر مسلم؟
  6. نابالغ قارئ قرآن کی امامت
  7. مسلمان کی جان بچانے کے لئے خون دینا
  8. قربانی کے جانور کی شرائط
  9. امام شافعی رحمہ اللہ ضعیف روایات کو حجت نہیں سمجھتے تھے
  10. امام نسائی رحمہ اللہ کی وفات کا قصہ
  11. فضائلِ اذکار
  12. سورة یٰسین کی فضیلت
  13. اللہ کے لئے خدا کا لفظ بالاجماع جائز ہے
  14. رفع یدین کے خلاف ایک نئی روایت — أخبار الفقہاء والمحدثین؟
  15. پانچ فرض نمازوں کی رکعتیں اور سنن و نوافل
  16. اذان اور اقامت کے مسائل
  17. نمازِ جمعہ رہ جانے کی صورت میں ظہر کی ادائیگی
  18. قرآن مجید کے سات قراءتوں پر نازل ہونے والی حدیث متواتر ہے
  19. ائمہ کرام سے اختلاف، دلائل کے ساتھ
  20. نمازِ عید کے بعد ’’تقبل اللہ منا و منک‘‘ کہنا
  21. تکبیراتِ عیدین کے الفاظ
  22. صحیح الاقوال فی استحباب صیام ستۃ من شوال
  23. تکبیراتِ عیدین میں رفع الیدین کا ثبوت
  24. تکبیراتِ عیدین
  25. عیدین میں 12 تکبیریں اور رفع یدین
  26. تمام مساجد میں اعتکاف جائز ہے
  27. حالتِ اعتکاف میں جائز اُمور
  28. روزہ اور اعتکاف کے اجماعی مسائل
  29. اعتکاف کے متعلق بعض آثارِ صحیحہ
  30. صدقہ فطر اجناس کے بجائے قیمت (نقدی) کی صورت میں دینا؟
  31. عشرکی ادائیگی اور کھاد، دوائی وغیرہ کا خرچ
  32. کئی سالوں کی بقیہ زکوٰۃ
  33. محدثین کے ابواب ’’پہلے اور بعد؟!‘‘
  34. نبی کریم ﷺ کی حدیث کا دفاع
  35. رمضان کے روزوں کی قضا اور تسلسل
  36. وحدت الوجود کے ایک پیروکار ’’حسین بن منصور الحلاج‘‘ کے بارے میں تحقیق
  37. ابن عربی صوفی کا رد
  38. روزے کی حالت میں ہانڈی وغیرہ سے چکھنا؟
  39. قیامِ رمضان مستحب ہے
  40. رمضان میں سرکش شیاطین کا باندھا جانا
  41. گیارہ رکعات قیامِ رمضان (تراویح) کا ثبوت اور دلائل
  42. اسناد دین میں سے ہیں (اور) اگر سند نہ ہوتی تو جس کے جو دل میں آتا کہتا
  43. کیا ’’شرح السنۃ‘‘ کا مطبوعہ نسخہ امام حسن بن علی البربہاری سے ثابت ہے؟
  44. کیا اللہ تعالیٰ ہر جگہ بذاتہ موجود ہے؟
  45. مسنون وضو کا طریقہ، صحیح احادیث کی روشنی میں
  46. پندرہ شعبان کی رات اور مخصوص عبادت
  47. دورانِ تلاوت سلام کرنا
  48. سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ
  49. حق کی طرف رجوع
  50. دعاء کے فضائل و مسائل
  51. سلف صالحین اور بعض مسائل میں اختلاف
  52. اہلِ حدیث سے مراد ’’محدثینِ کرام اور اُن کے عوام‘‘ دونوں ہیں
  53. نمازِ باجماعت کے لئے کس وقت کھڑے ہونا چاہیے؟
  54. دھوپ اور چھاؤں میں بیٹھنا
  55. أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
  56. کیا شلوار (چادر وغیرہ) ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
  57. خوشحال بابا
  58. نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے والی حدیث صحیح ہے
  59. کلمۂ طیبہ کا ثبوت
  60. قبر میں نبی کریم ﷺ کی حیات کا مسئلہ
  61. شریعتِ اسلامیہ میں شاتمِ رسول کی سزا
  62. سیدنا خضر علیہ السلام نبی تھے
  63. دعا میں چہرے پر ہاتھ پھیرنا بالکل صحیح ہے
  64. سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ کا واقعہ؟
  65. کیا امام شافعی امام ابو حنیفہ کی قبر پر گئے تھے؟
  66. دیوبندی حضرات اہلِ سنت نہیں ہیں
  67. اللہ کی نعمت کے آثار بندے پر ((إِذَا اَتَاکَ اللہ مالاً فَلْیُرَ علیک))
  68. ایک مشت سے زیادہ داڑھی کاٹنا؟
  69. امام مالک اور نماز میں فرض، سنت و نفل کا مسئلہ
  70. اللہ کی معیت و قربت سے کیا مراد ہے؟
  71. سلف صالحین کے بارے میں آلِ دیوبند کی گستاخیاں
  72. ’’ماں کی نافرمانی کی سزا دُنیا میں‘‘ … ایک من گھڑت روایت کی تحقیق
  73. عالَمِ خواب اور نیند میں نبی ﷺ کے دیدار کی تین صحیح روایات اور خواب دیکھنے والے ثقہ بلکہ فوق الثقہ تھے
  74. مسئلۃ استواء الرحمٰن علی العرش
  75. ورثاء کی موجودگی میں ایک تہائی مال کی وصیت جائز ہے
  76. موجودہ حالات صحیح حدیث کی روشنی میں
  77. دعوتِ حق کے لئے مناظرہ کرنا
  78. قیامت اچانک آئے گی جس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے
  79. حدیث کا منکر جنت سے محروم رہے گا
  80. یہ کیسا فضول تفقہ ہے جس کے بھروسے پر بعض لوگ اپنے آپ کو فقیہ سمجھ بیٹھے ہیں۔!!
  81. بغیر شرعی عذر کے بیٹھ کر نماز پڑھنا
  82. سیدنا معاویہ بن ابی سفیان کاتبِ وحی رضی اللہ عنہ کی فضیلت
  83. اللہ تعالیٰ سات آسمانوں سے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے
  84. فجر کی اذان میں الصلوٰۃ خیر من النوم کہنا حدیث سے ثابت ہے
  85. اے اللہ! میرے اور گناہوں کے درمیان پردہ حائل کر دے
  86. جمعہ کے دن مقبولیتِ دعا کا وقت؟
  87. نظر بد سے بچاؤ کے لئے دھاگے اور منکے وغیرہ لٹکانا؟
  88. ایک دوسرے کو سلام کہنا
  89. سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے محبت
  90. صحابۂ کرام کے بعد کسی اُمتی کا خواب حجت نہیں ہے
  91. امام ابو بکر عبداللہ بن ابی داود رحمہ اللہ کے اشعار
  92. قمیص میں بند گلا ہو یا کالر، دونوں طرح جائز ہے
  93. امام ابوبکر بن ابی داود السجستانی رحمہ اللہ کا عظیم الشان حافظہ
  94. سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور ایک عورت کے بھوکے بچوں کا قصہ
  95. نبی کریم ﷺ کا اپنے اُمتیوں سے پیار
  96. یہ نہیں کرنا کہ اپنی مرضی کی روایت کو صحیح و ثابت کہہ دیں اور دوسری جگہ اسی کو ضعیف کہتے پھریں۔ یہ کام تو آلِ تقلید کا ہے!
  97. رفع الیدین کی مرفوع و صحیح احادیث کے مقابلے میں ضعیف و غیر ثابت آثار
  98. نبی ﷺ کی سنت یعنی حدیث کے مقابلے میں کسی کی تقلید جائز نہیں ہے
  99. تجھے تو اچھی طرح سے نماز پڑھنی ہی نہیں آتی!
  100. سیدنا ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ
  101. کیا کتوں کا بیچنا جائز ہے؟
  102. اہلِ حدیث کے نزدیک قرآن و حدیث اور اجماع کے صریح مخالف ہر قول مردود ہے خواہ اسے بیان کرنے یا لکھنے والا کتنا ہی عظیم المرتبت کیوں نہ ہو
  103. نمازی کے آگے سترہ رکھنا واجب ہے یا سنت؟
  104. رسول اللہ ﷺ کی حدیث کا احترام
  105. محرم کے بعض مسائل
  106. جنات کا وجود ایک حقیقت ہے
  107. سلف صالحین اور علمائے اہلِ سنت
  108. نبی کریم ﷺ پر جھوٹ بولنے والا جہنم میں جائے گا
  109. بے سند اقوال سے استدلال غلط ہے
  110. قربانی کے چار یا تین دن؟
  111. حالتِ نماز میں قرآن مجید دیکھ کر تلاوت کرنا
  112. قربانی کے بعض احکام و مسائل - دوسری قسط
  113. پوری اُمت کبھی بالاجماع شرک نہیں کرے گی
  114. قادیانیوں اور فرقۂ مسعودیہ میں 20 مشترکہ عقائد
  115. قربانی کے احکام و مسائل با دلائل
  116. مکمل نمازِ نبوی ﷺ - صحیح احادیث کی روشنی میں
  117. نبی کریم ﷺ نے سیدنا جُلَیبِیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ’’ھذا مني وأنا منہ‘‘
  118. کلید التحقیق: فضائلِ ابی حنیفہ کی بعض کتابوں پر تحقیقی نظر
  119. گھروں میں مجسمے رکھنا یا تصاویر لٹکانا یا تصاویر والے کپڑے پہننا
  120. اگر کسی شخص کا بیٹا فوت ہو جائے تو بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے پوتوں پوتیوں کے بارے میں وصیت لکھ دے
  121. اتباعِ سنت ہی میں نجات ہے
  122. رسول اللہ ﷺ اور بعض غیب کی اطلاع
  123. خطبۂ جمعہ کے چالیس مسائل
  124. خطبۂ جمعہ کے دوران کوئی یہ کہے کہ ’’چپ کر‘‘ تو ایسا کہنے والے نے بھی لغو یعنی باطل کام کیا
  125. عید کے بعض مسائل
  126. روزہ افطار کرنے کے بارے میں مُسَوِّفین (دیر سے روزہ افطار کرنے والوں) میں سے نہ ہونا
  127. اُصولِ حدیث اور مدلس کی عن والی روایت کا حکم
  128. رمضان کے آخری عشرے میں ہر طاق رات میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو
  129. جنازہ گزرنے پر کھڑا ہونے والا حکم منسوخ ہے
  130. اللہ تعالیٰ کا احسان اور امام اسحاق بن راہویہ کا حافظہ
  131. اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کریں
  132. دُور کی رُویت کا کوئی اعتبار نہیں ہے (رمضان المبارک کے بعض مسائل)
  133. شریعت میں باطنیت کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ ظاہر کا اعتبار ہے
  134. کیا قے (یعنی اُلٹی) آنے سے روزے کی قضا ہے؟
  135. طارق جمیل صاحب کی بیان کردہ روایتوں کی تحقیق
  136. اطلبوا العلم ولو بالصین - تم علم حاصل کرو، اگرچہ وہ چین میں ہو
  137. مونچھوں کے احکام و مسائل
  138. ضعیف روایات اور اُن کا حکم
  139. نماز باجماعت کا حکم
  140. چالیس حدیثیں یاد کرنے والی روایت
  141. نظر کا لگ جانا برحق ہے
  142. کتاب سے استفادے کے اصول
  143. حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی امام بخاری رحمہ اللہ تک سند
  144. سیرت رحمۃ للعالمین ﷺ کے چند پہلو
  145. شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
  146. چند فقہی اصطلاحات کا تعارف
  147. جو آدمی کوئی چیز لٹکائے گا وہ اسی کے سپرد کیا جائے گا
  148. کلامی لا ینسخ کلام اللہ – والی روایت موضوع ہے
  149. گانے بجانے اور فحاشی کی حرمت
  150. نفل نمازوں کے فضائل و مسائل
  151. مساجد میں عورتوں کی نماز کے دس دلائل
  152. ایک صحیح العقیدہ یعنی اہل حدیث بادشاہ کا عظیم الشان قصہ
  153. نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک احادیث صحیحہ سے بطورخلاصہ پیش خدمت ہے
  154. نبی کریم ﷺ کے معجزے
  155. سجدے کی حالت میں ایڑیوں کا ملانا آپ ﷺ سے باسند صحیح ثابت ہے
  156. باجماعت نماز میں صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز
  157. نمازِ تسبیح / صلوٰۃ التسبیح
  158. کیا ملک الموت علیہ السلام کا نام یعنی ’’عزرائیل‘‘ قرآن یا حدیث سے ثابت ہے؟
  159. ختمِ نبوت پر چالیس (40) دلائل
  160. چالیس (40) مسائل جو صراحتاً صرف اجماع سے ثابت ہیں
  161. وعظ و نصیحت اور دعوت و تبلیغ کے بارے میں سنہری ہدایات
  162. جہنم سانس باہر نکالتی ہے تو گرمی زیادہ ہو جاتی ہے
  163. سب اہلِ ایمان بھائی بھائی ہیں
  164. اللہ پر ایمان اور ثابت قدمی
  165. ماہِ صفر کے بعض مسائل
  166. محمد رسول اللہ ﷺ کا سایہ مبارک
  167. ابو الطفیل عامر بن واثلہ، صحابہ کرام میں وفات پانے والے آخری صحابی تھے
IshaatulHadith Hazro © 2020 (websites) - contact us