zubair ali zai

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ

تحریر: محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ


بعض لوگ مخالفت برائے مخالفت کے عادی ہوتے ہیں یا بغض کی آگ میں جل رہے ہوتے اور یہ آگ اس وقت خوب بھڑکتی ہے جب ان کے مخالف کی کوئی بات ان کے ہتھے چڑھ جائے خواہ جھوٹ ہی ہو۔

اس کی ایک جھلک اس وقت دیکھنے کو ملی جب مرزا جہلمی نے شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے خلاف ہرزہ سرائی کی تو یار لوگوں نے اس پر مرزا صاحب کی گرفت تو نہ کی، البتہ حسبِ عادت محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کو آڑے ہاتھوں لیا اور سینے کا سارا کینہ زبان و قلم کے ذریعے سے باہر کیا۔

باوجود یکہ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کئی مواقع اور انداز سے مرزا جہلمی سے برأت کر چکے ہیں۔

ڈاکٹر حافظ عبد الباسط فہیم حفظہ اللہ مدرس مسجد نبوی نے ایک وٹس اپ گروپ میں واضح بھی کیا کہ شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ اپنی وفات سے تقریباً دو ماہ قبل جب عمرے کی سعادت کے لیے گئے تو وہاں شیخ رحمہ اللہ نے مرزا جہلمی سے برات کا اعلان کیا۔

وقتاً فوقتاً اپنے تلامذہ سے بھی اس بات کا اظہار کرتے رہتے تھے۔

ہم یہاں دو عمومی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا بھی مناسب سمجھتے ہیں:

  1. مرزا محمد علی یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ میں حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کا شاگرد ہوں اور کئی عام و خاص اس تاثر کو قبول بھی کر لیتے ہیں۔

    حالانکہ یہ بالکل غلط ہے کہ مرزا موصوف، شیخ رحمہ اللہ کا شاگرد ہے۔

    اس عارضی تعلق کا پس منظر یہ ہے کہ مرزا صاحب اپنے ساتھیوں کے ہمراہ شیخ رحمہ اللہ کی خدمت میں حضرو پہنچا، آپ سے بہت سے سوالات کیے جن کے جوابات سے مطمئن ہو کر مرزا صاحب نے اہل حدیث ہونے کا اعلان کیا۔

    جو اس راہ کے راہی ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ نئے راہ حق قبول کرنے والے ساتھیوں کو کس قدر توجہ دی جاتی ہے، اسی بنا پر شیخ رحمہ اللہ نے بھی خصوصی توجہ دی اور یاد رہے کہ مرزا ہمیشہ اسی طرح ایک سائل ہی ہوتا جس طرح سینکڑوں لوگ روزانہ فون پر یا ملاقات کر کے اپنے سوالات کے جوابات حاصل کرتے تھے اور ان میں سے کبھی کسی نے شاگرد ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ جب تک مرزا محمد علی خود کو اہل حدیث کہتا رہا اور سلف صالحین کا قدر دان رہا، شیخ رحمہ اللہ نے اس کی اصلاح کی غرض سے رابطہ برقرار رکھا لیکن جب یہ اہل حدیث اور اس کے منہج سے منحرف ہو گیا اور اصلاح کے پہلو معدوم ہوتے چلے گئے تو محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے نہ صرف رابطہ ختم کر دیا بلکہ برات کا اعلان بھی کر دیا، کیونکہ شیخ رحمہ اللہ غیور اہل حدیث تھے۔ وللہ الحمد

    مدارس میں اساتذہ سے باقاعدہ پڑھنے والے اور فارغ التحصیل بھی بغاوت کی راہ اختیار کر لیتے اور منہج سلف سے منہ موڑ لیتے ہیں، سر سے پاؤں تک غیر اسلامی حلیہ بنا لیتے ہیں تو کیا ایسے میں ان مدارس یا اساتذہ کو مطعون کیا جا سکتا ہے؟

    بالکل نہیں تو پھر مرزا محمد علی تو فقط ایک سائل تھا، اس کی نسبت محدث العصر کی طرف کر کے انھیں کس طرح مطعون کیا جا سکتا ہے؟

    جبکہ شیخ رحمہ اللہ اس سے برأت کا اعلان بھی کر چکے ہوں۔ امید واثق ہے کہ اس وضاحت کے بعد یہ غلط فہمی دور ہو جائے گی کہ مرزا محمد علی، شیخ رحمہ اللہ کا شاگرد ہے، مزید براں بعد از برأت آپ کا اس سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رہا۔

  2. اسے غلط فہمی کے بجائے بہتان کہنا ہی درست ہو گا کہ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی توہین کی ، والعیاذ باللہ۔

    ماہنامہ ’’الحدیث‘‘ حضرو کے صفحات شاہد ہیں کہ جب بھی کسی غیر اہل حدیث نے شیخ الاسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کی کوشش کی تو محدث العصر نے اسے دندان شکن جواب دیا۔

    شیخ الاسلام کی اربعین کو اردو ترجمے، عمدہ تحقیق اور علمی فوائد کے ساتھ شائع کیا جو مذکورہ بہتان لگانے والوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔

    کتاب کے آغاز میں بھرپور محنت اور محبت سے شیخ الاسلام کے حالات و خدمات کو صفحہ قرطاس پر منتقل کیا، جسے ہم موجودہ صورت حال کے پیش نظر ماہنامہ اشاعۃ الحدیث کے صفحات کی زینت بنا رہے ہیں۔ (الشیخ ابو ظفیر محمد ندیم ظہیر حفظہ اللہ )


حَافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی تحریر یہاں سے شروع ہوتی ہے:

تحریر: محدّث العَصر حَافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

شائع ہوا: ماہنامہ اشاعۃ الحدیث شمارہ نمبر 141 صفحہ نمبر 39

شیخ الاسلام حافظ ابو العباس تقی الدین ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا مختصر و جامع تذکرہ درج ذیل ہے:

نام و نسب: تقی الدین ابو العباس احمد بن عبد الحلیم بن عبد السلام بن عبد اللہ بن ابی القاسم الخضر بن محمد بن الخضر بن علی بن عبد اللہ ابن تیمیہ الحرانی الشامی رحمہ اللہ

آپ کے والد مفتی شہاب الدین عبد الحلیم رحمہ اللہ بہت بڑے عالم تھے اور دادا شیخ الاسلام مجد الدین ابو البرکات عبد السلام رحمہ اللہ (م ۶۵۲ھ) نے بہت سی مفید کتابیں لکھیں مثلاً منتقی الاخبار یعنی المنتقیٰ من احادیث الاحکام وغیرہ۔

ولادت: ۱۰ یا ۱۲/ ربیع الاول ۶۶۱ھ بروز سوموار

اساتذہ: اسماعیل بن ابراہیم ابن ابی الیسر، احمد بن عبد الدائم المقدسی، الکمال ابن عبد، احمد بن ابی الخیر سلامہ بن ابراہیم، المجدمحمد بن اسماعیل بن عثمان عرف ابن عساکر، برکات بن ابراہیم بن طاہر الخشوعی، یحییٰ بن منصور الصیرفی، قاسم بن ابی بکر بن قاسم بن غنیمہ الاربلی، ابو الغنائم مسلم بن محمد عرف ابن علان، فخر الدین ابن البخاری، مومل بن محمد البالسی اور احمد بن شیبان وغیرہم۔ رحمہم اللہ

تلامذہ: حافظ ذہبی ، حافظ ابن کثیر ، حافظ ابن القیم، حافظ ابن عبد الہادی، ابن الوردی، شمس الدین محمد بن احمد الاباہی اور ابو العباس احمد بن حسن بن عبد اللہ بن محمد بن احمد بن قدامہ المقدسی وغیرہم ۔ رحمہم اللہ

تصانیف: آپ کی تصانیف بہت زیادہ ہیں، جن میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں:

  1. الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول (ط یعنی مطبوع)
  2. منہاج السنۃ (ط)
  3. درء تعارض العقل والنقل (ط)
  4. الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح (ط)
  5. کتاب الایمان(ط)
  6. کتاب النبوات (ط)
  7. العقیدۃ الواسطیہ (ط)
  8. اقتضاء الصراط المستقیم (ط)
  9. قاعدۃ جلیلۃ فی التوسل و الوسیلہ (ط)
  10. الاستقامہ (ط)
  11. ابطال وحدۃ الوجود والرد علی القائلین بھا (ط)
  12. مسئلۃ صفات اللہ تعالیٰ و علوہ علیٰ خلقہ (ط)
  13. کتاب الرد علی المنطقیین (ط)
  14. السیاسۃ الشرعیۃ فی اصلاح الراعی والرعیۃ (ط)
  15. الفرقان بین اولیاء الرحمن و اولیاء الشیطان (ط)
  16. الکلم الطیب (ط)
  17. الرد علی الاخنائی (ط)
  18. الرد علی البکری (ط)
  19. فتاویٰ (ط)
  20. کتاب الاربعین ، وغیر ذلک من الکتب المفیدۃ

کتاب الاربعین: حافظ ابن تیمیہ نے اپنے مختلف اساتذہ سے چالیس حدیثوں کا ایک گلدستہ مکمل اسانید و متون کے ساتھ پیش کیا ہے جو علیحدہ بھی چھپا ہوا ہے اور فتاویٰ میں بھی مطبوع ہے۔

راقم الحروف نے اس کتاب کی عربی زبان میں مطول تخریج و تحقیق کافی عرصہ پہلی لکھی تھی اور اب اسے مختصر کر کے مع ترجمہ و فوائد قارئین کی خدمت میں پیش کر دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس عمل کو قبول فرمائے ۔ حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ، استاذ محترم حافظ عبد الحمید ازہر المدنی حفظہ اللہ ، راقم الحروف، حافظ ندیم ظہیر اور محترم سرور عاصم حفظہم اللہ کے لئے ذخیرۂ آخرت بنائے۔ آمین

فضائل: جمہور محدثین و صحیح العقیدہ علمائے حق نے آپ کی تعریف و توثیق کی ہے اور آپ کے فضائل بے حد و بے شمار ہیں، بلکہ بہت سے کبار علماء نے آپ کو شیخ الاسلام کے لقب سے ملقب کیا ہے۔ مثلاً:

  1. حافظ ابن تیمیہ ( متوفی ۷۲۸ھ) کے شاگرد حافظ ذہبی ( متوفی ۷۴۸ ھ) نے ابن تیمیہ کے بارے میں لکھا:

    ’’ الشیخ الإمام العلامۃ الحافظ الناقد ( الفقیہ ) المجتھد المفسر البارع شیخ الإسلام علم الزھاد نادرۃ العصر ۔۔۔ ‘‘ ( تذکرۃ الحفاظ ۴؍ ۱۴۹۶ت ۱۱۷۵)

    اور لکھا:

    ’’ الإمام العالم المفسر الفقیہ المجتہد الحافظ المحدث شیخ الإسلام نادرۃ العصر ، ذوالتصانیف الباھرۃ والذکاء المفرط ‘‘ ( ذیل تاریخ الاسلام للذہبی ص ۳۲۴)

    اور لکھا:

    ’’ شیخنا الإمام ‘‘ ( معجم الشیوخ ۱؍ ۵۶ ت ۴۰)

    معلوم ہوا کہ حافظ ذہبی انھیں امام اور شیخ الاسلام سمجھتے تھے۔

  2. حافظ ابن تیمیہ کے شاگرد حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ ( متوفی ۷۷۴ھ) نے لکھا:

    ’’ وفاۃ شیخ الإسلام أبی العباس تقي الدین أحمد بن تیمیۃ ‘‘ ( البدایہ والنہایہ ۱۴؍۱۴۱ وفیات ۷۲۸ ھ)

  3. شیخ علم الدین ابو محمد القاسم بن محمد بن البرزا لی الشافعی رحمہ اللہ ( متوفی ۷۳۹ھ) نے اپنی تاریخ میں کہا:

    ’’ الشیخ الإمام العالم العلم العلامۃ الفقیہ الحافظ الزاھد العابد المجاہد القدوۃ شیخ الإسلام ‘‘ ( البدایہ والنہایہ ۱۴؍۱۴۱)

    نیز دیکھئے العقود الدریۃ ص ۲۴۶

  4. حافظ ابن تیمیہ کے شاگرد حافظ ابو عبداللہ محمد بن احمد بن عبدالہادی المقدسی الحنبلی رحمہ اللہ ( متوفی ۷۴۴ ھ) نے ’’ العقود الدریۃ من مناقب شیخ الإسلام أحمد بن تیمیۃ ‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی جو ۳۵۳ صفحات پر مطبعۃ المدنی قاہرہ مصر سے مطبوع ہے اور ہمارے پاس موجود ہے۔ والحمدللہ

    اس کتاب میں ابن عبدالہادی نے کہا:

    ’’ ھو الشیخ الإمام الرباني، إمام الأئمۃ ومفتی الأمۃ وبحر العلوم ، سید الحفاظ و فارس المعاني و الألفاظ ، فرید العصر و قریع الدھر ، شیخ الإسلام برکۃ الأنام وعلامۃ الزمان و ترجمان القرآن ، علم الزھاد و أوحد العباد، قامع المبتدعین و آخر المجتھدین ‘‘ ( العقود الدریہ ص ۳)

  5. حافظ ابو الفتح ابن سید الناس الیعمری المصری رحمہ اللہ ( متوفی ۷۳۴ھ) نے حافظ جمال الدین ابو الحجاج المزی رحمہ اللہ کے تذکرے میں کہا:

    ’’ وھو الذي حداني علٰی رؤیۃ الشیخ الإمام شیخ الإسلام تقی الدین أبي العباس أحمد۔۔۔ ‘‘ ( العقود الدریہ ص ۹)

  6. کمال الدین ابو المعالی محمد بن ابی الحسن الز ملکانی ( متوفی ۷۲۷ھ) نے حافظ ابن تیمیہ کی کتاب : ’’ بیان الدلیل علٰی بطلان التحلیل ‘‘ پر اپنے ہاتھ سے لکھا:

    ’’ الشیخ السید الإمام العالم العلامۃ الأوحد البارع الحافظ الزاھد الورع القدوۃ الکامل العارف تقی الدین ، شیخ الإسلام مفتی الأنام سید العلماء ، قدوۃ الأئمۃ الفضلاء ناصر السنۃ قامع البدعۃ حجۃ اللّٰہ علی العباد في عصرہ ، رادّ أھل الزیغ والعناد ، أوحدالعلماء العاملین آخر المجتھدین ‘‘ ( العقود الدریہ ص ۸، الرد الوافر لابن ناصر الدین الدمشقی ص ۱۰۴، واللفظ لہ )

  7. ابو عبداللہ محمد بن الصفی عثمان بن الحریری الانصاری الحنفی ( متوفی ۷۲۸ھ) فرماتے تھے:

    ’’ إن لم یکن ابن تیمیۃ شیخ الإسلام فمن ؟ ‘‘

    اگر ابن تیمیہ شیخ الاسلام نہیں تو پھر کون ہے؟ ( الرد الوافر لابن ناصر الدین ص ۹۸، ۵۶)

  8. ابو عبداللہ محمد بن محمد بن ابی بکر بن ابی العباس احمد بن عبدالدائم المعروف بابن عبدالدائم المقدسی الصالحی ( متوفی ۷۷۵ھ) نے حافظ ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام کہا۔

    دیکھئے الرد الوافر ( ص ۶۱)

  9. شمس الدین ابو بکر محمد بن محب الدین ابی محمد عبداللہ بن المحب عبداللہ الصالحی الحنبلی المعروف بابن المحب الصامت نے اپنے ہاتھ سے لکھا:

    ’’شیخنا الإمام الربانی شیخ الإسلام إمام الأعلام بحرالعلوم والمعارف ‘‘ ( الرد الوافر ص ۹۱)

  10. حافظ ابن تیمیہ کے مشہور شاگرد حافظ ابن القیم الجوزیہ ( متوفی ۷۵۱ھ) نے اُن کے بارے میں کہا:

    ’’ شیخ الإسلام ‘‘ ( اعلام الموقعین ج۲ص ۲۴۱ طبع دار الجیل بیروت)

ان دس حوالوں کے علاوہ اور بھی بہت سے حوالے ہیں جن میں حافظ ابن تیمیہ کی بیحد تعریف کی گئی ہے یا انھیں شیخ الاسلام کے عظیم الشان لقب سے یاد کیا گیا ہے مثلاً:

حافظ ابن رجب الحنبلی (متوفی ۷۹۵ھ) نے کہا:

’’ الإمام الفقیہ المجتھد المحدث الحافظ المفسر الأصولی الزاھد تقي الدین أبوالعباس شیخ الإسلام وعلم الأعلام ۔۔۔‘‘ ( الذیل علیٰ طبقات الحنابلۃ ۲؍ ۳۸۷ ت ۳۹۵)

ابن العماد الحنبلی نے کہا:

’’ شیخ الإسلام ۔۔۔ الحنبلی بل المجتھد المطلق ‘‘ (شذرات الذہب ۶؍ ۸۱)

تہذیب الکمال اور تحفۃ الاشراف کے مصنف حافظ ابو الحجاج المزی رحمہ اللہ نے فرمایا:

’’ ما رأیت مثلہ، ولا رأی ھو مثل نفسہ و ما رأیت أحدًا أعلم الکتاب اللّٰہ وسنۃ رسولہ ولا أتبع لھما منہ ‘‘

میں نے اُن جیسا کوئی نہیں دیکھا اور نہ انھوں نے اپنے جیسا کوئی دیکھا، میں نے کتاب اللہ اور رسول اللہ (ا) کی سنت کا اُن سے بڑا عالم نہیں دیکھا اور نہ اُن سے زیادہ کتاب و سنت کی اتباع کرنے والا کوئی دیکھا ہے۔ ( العقود الدریہ ص ۷ تصنیف الامام ابن عبدالہادی تلمیذ الحافظ المزی رحمہما اللہ)

ان گواہیوں کا خلاصہ یہ ہے کہ حافظ ابن تیمیہ اہلِ سنت و جماعت کے کبار علماء میں سے تھے اور شیخ الاسلام تھے۔

نیز ملا علی قاری حنفی نے لکھا ہے:

’’و من طالع شرح منازل السائرین تبین لہ أنھما من أکابر أھل السنۃ والجماعۃ و من أولیاء ھذہ الأمۃ۔‘‘

جس نے منازل السائرین کی شرح کا مطالعہ کیا تو اس پر واضح ہو گیا کہ وہ دونوں (حافظ ابن تیمیہ اور حافظ ابن القیم رحمہما اللہ ) اہلِ سنت والجماعت کے اکابر میں سے اور اس اُمت کے اولیاء میں سے تھے۔ (جمع الوسائل فی شرح الشمائل ج۱ص ۲۰۷)

آپ کے مفصل حالات اور سیرتِ طیبہ کے لئے دیکھئے:

  1. تذکرۃ الحفاظ للذہبی (۴/ ۱۴۹۶۔ ۱۴۹۸) و تاریخ الاسلام لہ (۲۲۳/۵۳۔۲۲۶)
  2. العقود الدریہ لابن عبد الہادی
  3. البدایہ والنہایہ لابن کثیر
  4. القول الجلی لمحمد بن احمد البخاری
  5. الکواکب الدریہ لمرعی بن یوسف
  6. الاعلام العلیہ لعمر بن علی البزار
  7. الرد الوافر لابن ناصر الدین والتبیان لبدیعۃ البیان لہ ( ۳/ ۱۴۶۱۔ ۱۴۶۶)
  8. الذیل علیٰ طبقات الحنابلہ لابن رجب (۲/ ۳۸۷)
  9. فوات الوفیات والذیل علیہا لمحمد بن شاکر الکتبی( ۱/ ۷۴ ت ۳۴ )

    وقال: ’’شیخ الاسلام‘‘

  10. امام ابن تیمیہ ، تصنیف : محمد یوسف کوکن عمری وغیر ذلک

حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو حافظ ذہبی وغیرہ نے ’’المجتھد‘‘ قرار دیا اور خود حافظ ابن تیمیہ نے فرمایا:

’’إنما أتناول ما أتناول منھا علٰی معرفتي بمذہب أحمد، لا علٰی تقلیدي لہ۔‘‘

میں احمد (بن حنبل) کے مسلک میں سے وہی لیتا ہوں جسے میں (دلائل کی رُو سے) جانتا ہوں، میں آپ کی تقلید نہیں کرتا۔ (اعلام الموقعین لابن القیم ۲/ ۲۴۱۔ ۲۴۲)

وفات: ۲۰/ ذوالقعدہ ۷۲۸ھ بمقام قلعہ دمشق بحالت قید۔

یعنی آپ کا جنازہ جیل ہی سے جائے تدفین تک گیا۔ رحمہ اللّٰہ و أدخلہ الجنۃ


یہی مضمون ماہنامہ الحدیث شمارہ 58 میں بھی شائع ہوا تھا:

تحریر: محدّث العَصر حَافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

شائع ہوا: ماہنامہ اشاعۃ الحدیث شمارہ نمبر 58 صفحہ نمبر 9

ہماری موبائل ایپ انسٹال کریں۔ تحقیقی مضامین اور تحقیقی کتابوں کی موجودہ وقت میں ان شاء اللہ سب سے بہترین ایپ ہے، والحمدللہ۔

دیگر بلاگ پوسٹس:

  1. ایمان میں کمی بیشی کا مسئلہ
  2. حالتِ سجدہ میں ہاتھوں کی انگلیاں ملانا؟
  3. سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مقام
  4. قرآن و حدیث کو تمام آراء و فتاویٰ پر ہمیشہ ترجیح حاصل ہے
  5. قربانی کا گوشت اور غیر مسلم؟
  6. نابالغ قارئ قرآن کی امامت
  7. مسلمان کی جان بچانے کے لئے خون دینا
  8. قربانی کے جانور کی شرائط
  9. امام شافعی رحمہ اللہ ضعیف روایات کو حجت نہیں سمجھتے تھے
  10. امام نسائی رحمہ اللہ کی وفات کا قصہ
  11. فضائلِ اذکار
  12. سورة یٰسین کی فضیلت
  13. اللہ کے لئے خدا کا لفظ بالاجماع جائز ہے
  14. رفع یدین کے خلاف ایک نئی روایت — أخبار الفقہاء والمحدثین؟
  15. پانچ فرض نمازوں کی رکعتیں اور سنن و نوافل
  16. اذان اور اقامت کے مسائل
  17. نمازِ جمعہ رہ جانے کی صورت میں ظہر کی ادائیگی
  18. قرآن مجید کے سات قراءتوں پر نازل ہونے والی حدیث متواتر ہے
  19. ائمہ کرام سے اختلاف، دلائل کے ساتھ
  20. نمازِ عید کے بعد ’’تقبل اللہ منا و منک‘‘ کہنا
  21. تکبیراتِ عیدین کے الفاظ
  22. صحیح الاقوال فی استحباب صیام ستۃ من شوال
  23. تکبیراتِ عیدین میں رفع الیدین کا ثبوت
  24. تکبیراتِ عیدین
  25. عیدین میں 12 تکبیریں اور رفع یدین
  26. تمام مساجد میں اعتکاف جائز ہے
  27. حالتِ اعتکاف میں جائز اُمور
  28. روزہ اور اعتکاف کے اجماعی مسائل
  29. اعتکاف کے متعلق بعض آثارِ صحیحہ
  30. صدقہ فطر اجناس کے بجائے قیمت (نقدی) کی صورت میں دینا؟
  31. عشرکی ادائیگی اور کھاد، دوائی وغیرہ کا خرچ
  32. کئی سالوں کی بقیہ زکوٰۃ
  33. محدثین کے ابواب ’’پہلے اور بعد؟!‘‘
  34. نبی کریم ﷺ کی حدیث کا دفاع
  35. رمضان کے روزوں کی قضا اور تسلسل
  36. وحدت الوجود کے ایک پیروکار ’’حسین بن منصور الحلاج‘‘ کے بارے میں تحقیق
  37. ابن عربی صوفی کا رد
  38. روزے کی حالت میں ہانڈی وغیرہ سے چکھنا؟
  39. قیامِ رمضان مستحب ہے
  40. رمضان میں سرکش شیاطین کا باندھا جانا
  41. گیارہ رکعات قیامِ رمضان (تراویح) کا ثبوت اور دلائل
  42. اسناد دین میں سے ہیں (اور) اگر سند نہ ہوتی تو جس کے جو دل میں آتا کہتا
  43. کیا ’’شرح السنۃ‘‘ کا مطبوعہ نسخہ امام حسن بن علی البربہاری سے ثابت ہے؟
  44. کیا اللہ تعالیٰ ہر جگہ بذاتہ موجود ہے؟
  45. مسنون وضو کا طریقہ، صحیح احادیث کی روشنی میں
  46. پندرہ شعبان کی رات اور مخصوص عبادت
  47. دورانِ تلاوت سلام کرنا
  48. سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ
  49. حق کی طرف رجوع
  50. دعاء کے فضائل و مسائل
  51. سلف صالحین اور بعض مسائل میں اختلاف
  52. اہلِ حدیث سے مراد ’’محدثینِ کرام اور اُن کے عوام‘‘ دونوں ہیں
  53. نمازِ باجماعت کے لئے کس وقت کھڑے ہونا چاہیے؟
  54. دھوپ اور چھاؤں میں بیٹھنا
  55. أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
  56. کیا شلوار (چادر وغیرہ) ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
  57. خوشحال بابا
  58. نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے والی حدیث صحیح ہے
  59. کلمۂ طیبہ کا ثبوت
  60. قبر میں نبی کریم ﷺ کی حیات کا مسئلہ
  61. شریعتِ اسلامیہ میں شاتمِ رسول کی سزا
  62. سیدنا خضر علیہ السلام نبی تھے
  63. دعا میں چہرے پر ہاتھ پھیرنا بالکل صحیح ہے
  64. سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ کا واقعہ؟
  65. کیا امام شافعی امام ابو حنیفہ کی قبر پر گئے تھے؟
  66. دیوبندی حضرات اہلِ سنت نہیں ہیں
  67. اللہ کی نعمت کے آثار بندے پر ((إِذَا اَتَاکَ اللہ مالاً فَلْیُرَ علیک))
  68. ایک مشت سے زیادہ داڑھی کاٹنا؟
  69. امام مالک اور نماز میں فرض، سنت و نفل کا مسئلہ
  70. اللہ کی معیت و قربت سے کیا مراد ہے؟
  71. سلف صالحین کے بارے میں آلِ دیوبند کی گستاخیاں
  72. ’’ماں کی نافرمانی کی سزا دُنیا میں‘‘ … ایک من گھڑت روایت کی تحقیق
  73. عالَمِ خواب اور نیند میں نبی ﷺ کے دیدار کی تین صحیح روایات اور خواب دیکھنے والے ثقہ بلکہ فوق الثقہ تھے
  74. مسئلۃ استواء الرحمٰن علی العرش
  75. ورثاء کی موجودگی میں ایک تہائی مال کی وصیت جائز ہے
  76. موجودہ حالات صحیح حدیث کی روشنی میں
  77. دعوتِ حق کے لئے مناظرہ کرنا
  78. قیامت اچانک آئے گی جس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے
  79. حدیث کا منکر جنت سے محروم رہے گا
  80. یہ کیسا فضول تفقہ ہے جس کے بھروسے پر بعض لوگ اپنے آپ کو فقیہ سمجھ بیٹھے ہیں۔!!
  81. بغیر شرعی عذر کے بیٹھ کر نماز پڑھنا
  82. سیدنا معاویہ بن ابی سفیان کاتبِ وحی رضی اللہ عنہ کی فضیلت
  83. اللہ تعالیٰ سات آسمانوں سے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے
  84. فجر کی اذان میں الصلوٰۃ خیر من النوم کہنا حدیث سے ثابت ہے
  85. اے اللہ! میرے اور گناہوں کے درمیان پردہ حائل کر دے
  86. جمعہ کے دن مقبولیتِ دعا کا وقت؟
  87. نظر بد سے بچاؤ کے لئے دھاگے اور منکے وغیرہ لٹکانا؟
  88. ایک دوسرے کو سلام کہنا
  89. سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے محبت
  90. صحابۂ کرام کے بعد کسی اُمتی کا خواب حجت نہیں ہے
  91. امام ابو بکر عبداللہ بن ابی داود رحمہ اللہ کے اشعار
  92. قمیص میں بند گلا ہو یا کالر، دونوں طرح جائز ہے
  93. امام ابوبکر بن ابی داود السجستانی رحمہ اللہ کا عظیم الشان حافظہ
  94. سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور ایک عورت کے بھوکے بچوں کا قصہ
  95. نبی کریم ﷺ کا اپنے اُمتیوں سے پیار
  96. یہ نہیں کرنا کہ اپنی مرضی کی روایت کو صحیح و ثابت کہہ دیں اور دوسری جگہ اسی کو ضعیف کہتے پھریں۔ یہ کام تو آلِ تقلید کا ہے!
  97. رفع الیدین کی مرفوع و صحیح احادیث کے مقابلے میں ضعیف و غیر ثابت آثار
  98. نبی ﷺ کی سنت یعنی حدیث کے مقابلے میں کسی کی تقلید جائز نہیں ہے
  99. تجھے تو اچھی طرح سے نماز پڑھنی ہی نہیں آتی!
  100. سیدنا ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ
  101. کیا کتوں کا بیچنا جائز ہے؟
  102. اہلِ حدیث کے نزدیک قرآن و حدیث اور اجماع کے صریح مخالف ہر قول مردود ہے خواہ اسے بیان کرنے یا لکھنے والا کتنا ہی عظیم المرتبت کیوں نہ ہو
  103. نمازی کے آگے سترہ رکھنا واجب ہے یا سنت؟
  104. رسول اللہ ﷺ کی حدیث کا احترام
  105. محرم کے بعض مسائل
  106. جنات کا وجود ایک حقیقت ہے
  107. سلف صالحین اور علمائے اہلِ سنت
  108. نبی کریم ﷺ پر جھوٹ بولنے والا جہنم میں جائے گا
  109. بے سند اقوال سے استدلال غلط ہے
  110. قربانی کے چار یا تین دن؟
  111. حالتِ نماز میں قرآن مجید دیکھ کر تلاوت کرنا
  112. قربانی کے بعض احکام و مسائل - دوسری قسط
  113. پوری اُمت کبھی بالاجماع شرک نہیں کرے گی
  114. قادیانیوں اور فرقۂ مسعودیہ میں 20 مشترکہ عقائد
  115. قربانی کے احکام و مسائل با دلائل
  116. مکمل نمازِ نبوی ﷺ - صحیح احادیث کی روشنی میں
  117. نبی کریم ﷺ نے سیدنا جُلَیبِیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ’’ھذا مني وأنا منہ‘‘
  118. کلید التحقیق: فضائلِ ابی حنیفہ کی بعض کتابوں پر تحقیقی نظر
  119. گھروں میں مجسمے رکھنا یا تصاویر لٹکانا یا تصاویر والے کپڑے پہننا
  120. اگر کسی شخص کا بیٹا فوت ہو جائے تو بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے پوتوں پوتیوں کے بارے میں وصیت لکھ دے
  121. اتباعِ سنت ہی میں نجات ہے
  122. رسول اللہ ﷺ اور بعض غیب کی اطلاع
  123. خطبۂ جمعہ کے چالیس مسائل
  124. خطبۂ جمعہ کے دوران کوئی یہ کہے کہ ’’چپ کر‘‘ تو ایسا کہنے والے نے بھی لغو یعنی باطل کام کیا
  125. عید کے بعض مسائل
  126. روزہ افطار کرنے کے بارے میں مُسَوِّفین (دیر سے روزہ افطار کرنے والوں) میں سے نہ ہونا
  127. اُصولِ حدیث اور مدلس کی عن والی روایت کا حکم
  128. رمضان کے آخری عشرے میں ہر طاق رات میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو
  129. جنازہ گزرنے پر کھڑا ہونے والا حکم منسوخ ہے
  130. اللہ تعالیٰ کا احسان اور امام اسحاق بن راہویہ کا حافظہ
  131. اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کریں
  132. دُور کی رُویت کا کوئی اعتبار نہیں ہے (رمضان المبارک کے بعض مسائل)
  133. شریعت میں باطنیت کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ ظاہر کا اعتبار ہے
  134. کیا قے (یعنی اُلٹی) آنے سے روزے کی قضا ہے؟
  135. طارق جمیل صاحب کی بیان کردہ روایتوں کی تحقیق
  136. اطلبوا العلم ولو بالصین - تم علم حاصل کرو، اگرچہ وہ چین میں ہو
  137. مونچھوں کے احکام و مسائل
  138. ضعیف روایات اور اُن کا حکم
  139. نماز باجماعت کا حکم
  140. چالیس حدیثیں یاد کرنے والی روایت
  141. نظر کا لگ جانا برحق ہے
  142. کتاب سے استفادے کے اصول
  143. حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی امام بخاری رحمہ اللہ تک سند
  144. سیرت رحمۃ للعالمین ﷺ کے چند پہلو
  145. شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
  146. چند فقہی اصطلاحات کا تعارف
  147. جو آدمی کوئی چیز لٹکائے گا وہ اسی کے سپرد کیا جائے گا
  148. کلامی لا ینسخ کلام اللہ – والی روایت موضوع ہے
  149. گانے بجانے اور فحاشی کی حرمت
  150. نفل نمازوں کے فضائل و مسائل
  151. مساجد میں عورتوں کی نماز کے دس دلائل
  152. ایک صحیح العقیدہ یعنی اہل حدیث بادشاہ کا عظیم الشان قصہ
  153. نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک احادیث صحیحہ سے بطورخلاصہ پیش خدمت ہے
  154. نبی کریم ﷺ کے معجزے
  155. سجدے کی حالت میں ایڑیوں کا ملانا آپ ﷺ سے باسند صحیح ثابت ہے
  156. باجماعت نماز میں صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز
  157. نمازِ تسبیح / صلوٰۃ التسبیح
  158. کیا ملک الموت علیہ السلام کا نام یعنی ’’عزرائیل‘‘ قرآن یا حدیث سے ثابت ہے؟
  159. ختمِ نبوت پر چالیس (40) دلائل
  160. چالیس (40) مسائل جو صراحتاً صرف اجماع سے ثابت ہیں
  161. وعظ و نصیحت اور دعوت و تبلیغ کے بارے میں سنہری ہدایات
  162. جہنم سانس باہر نکالتی ہے تو گرمی زیادہ ہو جاتی ہے
  163. سب اہلِ ایمان بھائی بھائی ہیں
  164. اللہ پر ایمان اور ثابت قدمی
  165. ماہِ صفر کے بعض مسائل
  166. محمد رسول اللہ ﷺ کا سایہ مبارک
  167. ابو الطفیل عامر بن واثلہ، صحابہ کرام میں وفات پانے والے آخری صحابی تھے
IshaatulHadith Hazro © 2020 (websites) - contact us