zubair ali zai

کلمۂ طیبہ کا ثبوت

تحریر: محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ


سوال: کیا کلمۂ طیبہ ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کا ثبوت کسی صحیح حدیث میں ملتا ہے؟

الجواب:

امام ابوبکر احمد بن الحسین البیہقی رحمہ اللہ (متوفی 458ھ) نے فرمایا:

’’أخبرنا أبو عبداللہ الحافظ: ثنا أبو العباس محمد بن یعقوب: ثنا محمد ابن إسحاق: ثنا یحیی بن صالح الوحاظي: ثنا إسحاق بن یحیی الکلبي: ثنا الزھري: حدثني سعید بن المسیب أن أبا ھریرۃ رضي اللہ عنہ عن النبي ﷺ قال: ((أنزل اللہ تعالٰی في کتابہ فذکر قومًا استکبروا فقال: ﴿اِنَّھُمْ کَانُوْآ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ یَسْتَکْبِرُوْنَ﴾ وقال تعالٰی: ﴿اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِھِمُ الْحَمِیَّۃَ حَمِیَّۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ فَاَنْزَلَ اللہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَاَلْزَمَھُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوٰی وَکَانُوْآ اَحَقَّ بِھَا وَاَھْلَھَا﴾ وھي: لاإلٰہ إلا اللہ محمد رسول اللہ)) استکبر عنھا المشرکون یوم الحدیبیۃ یوم کاتبھم رسول اللہ ﷺ في قضیۃ المدۃ‘‘

ہمیں ابو عبداللہ الحافظ (امام حاکم، صاحب المستدرک) نے خبر دی (کہا): ہمیں ابو العباس محمد بن یعقوب (الاصم) نے حدیث بیان کی (کہا): ہمیں محمد بن اسحاق (بن جعفر، ابوبکر الصغانی) نے حدیث بیان کی (کہا): ہمیں یحییٰ بن صالح الوحاظی نے حدیث بیان کی (کہا): ہمیں اسحاق بن یحییٰ الکلبی نے حدیث بیان کی (کہا): ہمیں (ابن شہاب) الزہری نے حدیث بیان کی (کہا): مجھے سعید بن المسیب نے حدیث بیان کی، بے شک انھیں (سیدنا) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے حدیث بیان کی (آپ ﷺ نے) فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا تو تکبر کرنے والی ایک قوم کا ذکر کر کے فرمایا: یقینا جب انھیں لا الٰہ الا اللہ کہا جاتا ہے تو تکبر کرتے ہیں۔ (الصّٰفّٰت: 35)

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب کفر کرنے والوں نے اپنے دلوں میں جاہلیت والی ضد رکھی تو اللہ نے اپنا سکون و اطمینان اپنے رسول اور مومنوں پر اتارا اوران کے لئے کلمۃ التقویٰ کو لازم قرار دیا اور وہ اس کے زیادہ مستحق اور اہل تھے۔ (الفتح: 26)

اور وہ (کلمۃ التقویٰ) لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔

(صلح) حدیبیہ والے دن جب رسول اللہ ﷺ نے مدت (مقرر کرنے) والے فیصلے میں مشرکین سے معاہدہ کیا تو مشرکوں نے اس کلمے سے تکبر کیا تھا۔

(کتاب الاسماء والصفات ص 105، 106، دوسرا نسخہ ص 131، تیسرا نسخہ مطبوعہ انوار محمدی الہ آباد 1313ھ ص 81 باب ماجاء فی فضل الکلمۃ الباقیۃ فی عقب ابراہیم علیہ السلام)

اس روایت کی سند حسن لذاتہ ہے۔

حاکم، اصم، محمد بن اسحاق الصغانی، زہری اور سعید بن المسیب سب اعلیٰ درجے کے ثقہ ہیں۔

1: یحییٰ بن صالح الوحاظی صحیح بخاری و صحیح مسلم کے راوی اور جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ تھے۔ امام ابو حاتم الرازی نے کہا: صدوق، امام یحییٰ بن معین نے کہا: ’’ثقۃ‘‘ (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم 9/ 158 وسندہ صحیح)

امام بخاری نے فرمایا: ویحي ثقۃ (کتاب الضعفاء الصغیر: 145، طبع ہندیہ)

یحییٰ بن صالح پر درج ذیل علماء کی جرح ملتی ہے: 1) احمد بن حنبل 2) اسحاق بن منصور 3) عقیلی 4) ابو احمد الحاکم

امام احمد کی جرح کی بنیاد ایک مجہول انسان ہے۔ دیکھئے الضعفاء للعقیلی (4/ 408)

یہ جرح امام احمد کی توثیق سے معارض ہے۔

ابو زرعہ الدمشقی نے کہا:

’’لم یقل یعني أحمد بن حنبل في یحیی بن صالح إلا خیرًا‘‘

احمد بن حنبل نے یحییٰ بن صالح کے بارے میں صرف خیر ہی کہا ہے۔

(تاریخ دمشق لابن عساکر 68 / 78 وسندہ صحیح)

اسحاق بن منصور کی جرح کا راوی عبداللہ بن علی ہے۔ (الضعفاء للعقیلی 4/ 409)

عبداللہ بن علی کا ثقہ و صدوق ہونا ثابت نہیں ہے، لہٰذا یہ جرح ثابت ہی نہیں ہے۔

عقیلی کی جرح الضعفاء الکبیر میں نہیں ملی البتہ تاریخ دمشق (68/ 79) میں یہ جرح ضرور موجود ہے لیکن اس جرح کا راوی یوسف بن احمد غیر موثق (مجہول الحال) ہے لہٰذا یہ جرح بھی ثابت نہیں ہے۔

ابو احمد الحاکم (اور بشرطِ صحت احمد، اسحاق بن منصور اور عقیلی) کی جرح جمہور محدثین کی توثیق کے مقابلے میں مردود ہے۔

حافظ ذہبی نے کہا:

’’ثقۃ في نفسہ، تکلم فیہ لرأیہ‘‘

وہ بذاتِ خود ثقہ تھے، ان کی رائے کی وجہ سے (ابو احمد الحاکم وغیرہ کی طرف سے) ان میں کلام کیا گیا ہے۔

(معرفۃ الرواۃ المتکلم فیھم بما لا یوجب الرد: 367)

حافظ ابن حجر نے کہا: خالد (بن مخلد) اور یحییٰ بن صالح دونوں ثقہ ہیں۔ (فتح الباری ج 9 ص 524 تحت ح 5378 کتاب الأطعمۃ باب الأکل ممایلیہ)

اور کہا: صدوق من أھل الرأي (تقریب التہذیب: 7568)

تقریب التہذیب کے محققین نے لکھا ہے: ’’بل ثقۃ‘‘ بلکہ وہ ثقہ تھے۔ (التحریر ج 4 ص 88)

خلاصۃ التحقیق: یحییٰ بن صالح ثقہ و صحیح الحدیث ہیں۔

2: اسحاق بن یحییٰ بن علقمہ الکلبی الحمصی العوصی صحیح بخاری کے (شواہد کے) راوی ہیں۔ دیکھئے صحیح البخاری (682، 1355، 3299، 3443، 3927، 6647، 7000، 7171، 7382)

حافظ ابن حبان نے انھیں کتاب الثقات (ج 6 ص 49) میں ذکر کیا اور صحیح ابن حبان (الاحسان: 6074) میں ان سے روایت لی ہے۔

دارقطنی نے کہا: ’’أحادیثہ صالحۃ والبخاري یستشھدہ ولا یعتمدہ فی الأصول‘‘ ان کی حدیثیں صالح (اچھی) ہیں، بخاری شواہد میں ان سے روایت لیتے ہیں اور اصول میں ان پر اعتماد نہیں کرتے۔ (سوالات الحاکم للدارقطنی: 280)

تنبیہ: امام بخاری شواہد میں جس راوی سے روایت لیتے ہیں وہ ان کے نزدیک ثقہ ہوتا ہے۔ (اِلایہ کہ کسی خاص راوی کی تخصیص ثابت ہو جائے) دیکھئے شروط الأئمۃ الستۃ لمحمد بن طاہر المقدسی (ص 18دوسرا نسخہ ص 14)

ابو عوانہ نے صحیح ابی عوانہ (المستخرج علیٰ صحیح مسلم) میں ان سے روایت لی ہے۔ (ج 2 ص 293)

حافظ ابن حجر نے کہا: ’’صدوق، قیل: إنہ قتل أباہ‘‘ سچا ہے، کہا گیا ہے کہ اس نے اپنے باپ کو قتل کیا تھا۔ (تقریب التہذیب: 391)

باپ کو قتل کرنے والا قصہ تہذیب الکمال (طبع مؤسستہ الرسالہ ج 1 ص 202) میں ادھوری (غیر مکمل) سند ’’أبو عوانۃ الأسفرائني عن أبي بکر الجذامي عن ابن عوف قال: یقال‘‘ سے مروی ہے۔ یہ قصہ کئی لحاظ سے مردود ہے:

1- ابو عوانہ تک سند غائب ہے۔

2- ابوبکر الجذامی نامعلوم ہے۔

3- یقال (کہا جاتا ہے) کا قائل نامعلوم ہے۔

صاحبِ تہذیب الکمال نے بغیر کسی سند کے محمد بن یحییٰ الذہلی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے اسحاق بن یحییٰ کو طبقۂ ثانیہ میں ذکر کیا اور کہا: ’’مجہول: لم أعلم لہ روایۃً غیر یحیی بن صالح الوحاظي فإنہ أخرج إليّ لہ أجزاء من حدیث الزہري فوجد تھا مقاربۃ فلم أکتب منھا إلا شیئًا یسیرًا‘‘ مجہول ہے، میرے علم میں یحییٰ بن صالح الوحاظی کے سوا کسی نے اس سے روایت بیان نہیں کی۔ انھوں نے میرے سامنے اس کی زہری سے حدیثوں کے اجزاء پیش کئے تو میں نے دیکھا کہ یہ روایات مقارب (صحیح و مقبول اور ثقہ راویوں کے قریب قریب) ہیں۔ میں نے ان میں سے تھوڑی روایتیں ہی لکھی ہیں۔ (ج 1 ص 202)

حافظ ابو بکر محمد بن موسیٰ الحازمی (متوفی 591ھ) نے امام زہری کے شاگردوں کے طبقۂ ثانیہ کے بارے میں کہا کہ وہ مسلم کی شرط پر ہیں۔ (شروط الائمۃ الخمسہ ص 57)

معلوم ہوا کہ یہ راوی امام محمد بن یحییٰ الذہلی کے نزدیک مجہول ہونے کے ساتھ ثقہ و صدوق اور مقارب الحدیث ہے(!) بصورتِ دیگر یہ جرح جمہور محدثین کے مقابلے میں مردود ہے۔

خلاصۃ التحقیق: اسحاق بن یحییٰ الکلبی حسن الحدیث ہیں۔

فائدہ: لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ والی یہی روایت شعیب بن ابی حمزہ نے ’’عن الزہري عن سعید بن المسیب عن أبي ھریرۃ‘‘ کی سند سے بیان کر رکھی ہے۔ (کتاب الایمان لابن مندہ ج 1 ص 359 ح 99 وسندہ صحیح إلی شعیب بن ابی حمزہ)

اس شاہد کے ساتھ اسحاق بن یحییٰ کی روایت مزید قوی ہو جاتی ہے۔ والحمد للہ

دوسری دلیل: لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔

حافظ ابن حزم لکھتے ہیں:

’’فھذا إجماع صحیح کا لإجماع علٰی قول لا إلٰہ إلا اللہ محمد رسول اللہ‘‘

پس یہ اجماع صحیح ہے جیسا کہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے کلمے پر اجماع ہے۔

(المحلیٰ ج 10 ص 423، العین، مسئلہ: 3025)

حافظ ابن حزم مزید لکھتے ہیں:

’’وکذلک ما اتفق علیہ جمیع أھل الإسلام بلاخلاف من أحد منھم من تلقین موتاھم: لا إلٰہ إلا اللہ محمدرسول اللہ‘‘

اور اسی طرح تمام اہلِ اسلام بغیر کسی اختلاف کے اس پر متفق ہیں کہ مرنے والوں کو (موت کے وقت) لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ (پڑھنے) کی تلقین کرنی چاہئے۔

(الفصل فی الملل والاھواء والنحل ج 1 ص 621، الرد علی من زعم أن الانبیاء علیہم السلام لیسوا أنبیاء الیوم)

معلوم ہوا کہ کلمۂ اخلاص: کلمۂ طیبہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا صحیح حدیث اور اجماع سے ثبوت موجود ہے۔ والحمدللّٰہ وصلی اللہ علٰی نبیہ وسلم

تنبیہ: ’’مفتی‘‘ محمد اسماعیل طُورو دیوبندی نے ’’شش کلمے‘‘ کے تحت لکھا ہے:

’’کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

(ترجمہ) نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

(البخاری، مسلم ج1ص 73)‘‘

(مختصر نصاب ص 24 طبع 2005ء دارالافتاء جامعہ اسلامیہ، صدر کامران مارکیٹ راولپنڈی)

یہ مکمل کلمہ نہ تو صحیح بخاری کی کسی حدیث میں لکھا ہوا ہے اور نہ صحیح مسلم کی کسی حدیث میں اس طرح موجود ہے۔

مفتی بنے ہوئے علماء کو اپنی تحریروں میں احتیاط کرنی چاہئے اور غلط حوالوں سے کلی اجتناب کرنا چاہئے۔

اصل مضمون کے لئے دیکھئے فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (جلد 1 صفحہ 75 تا 80) للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

ہماری موبائل ایپ انسٹال کریں۔ تحقیقی مضامین اور تحقیقی کتابوں کی موجودہ وقت میں ان شاء اللہ سب سے بہترین ایپ ہے، والحمدللہ۔

دیگر بلاگ پوسٹس:

  1. ایمان میں کمی بیشی کا مسئلہ
  2. حالتِ سجدہ میں ہاتھوں کی انگلیاں ملانا؟
  3. سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مقام
  4. قرآن و حدیث کو تمام آراء و فتاویٰ پر ہمیشہ ترجیح حاصل ہے
  5. قربانی کا گوشت اور غیر مسلم؟
  6. نابالغ قارئ قرآن کی امامت
  7. مسلمان کی جان بچانے کے لئے خون دینا
  8. قربانی کے جانور کی شرائط
  9. امام شافعی رحمہ اللہ ضعیف روایات کو حجت نہیں سمجھتے تھے
  10. امام نسائی رحمہ اللہ کی وفات کا قصہ
  11. فضائلِ اذکار
  12. سورة یٰسین کی فضیلت
  13. اللہ کے لئے خدا کا لفظ بالاجماع جائز ہے
  14. رفع یدین کے خلاف ایک نئی روایت — أخبار الفقہاء والمحدثین؟
  15. پانچ فرض نمازوں کی رکعتیں اور سنن و نوافل
  16. اذان اور اقامت کے مسائل
  17. نمازِ جمعہ رہ جانے کی صورت میں ظہر کی ادائیگی
  18. قرآن مجید کے سات قراءتوں پر نازل ہونے والی حدیث متواتر ہے
  19. ائمہ کرام سے اختلاف، دلائل کے ساتھ
  20. نمازِ عید کے بعد ’’تقبل اللہ منا و منک‘‘ کہنا
  21. تکبیراتِ عیدین کے الفاظ
  22. صحیح الاقوال فی استحباب صیام ستۃ من شوال
  23. تکبیراتِ عیدین میں رفع الیدین کا ثبوت
  24. تکبیراتِ عیدین
  25. عیدین میں 12 تکبیریں اور رفع یدین
  26. تمام مساجد میں اعتکاف جائز ہے
  27. حالتِ اعتکاف میں جائز اُمور
  28. روزہ اور اعتکاف کے اجماعی مسائل
  29. اعتکاف کے متعلق بعض آثارِ صحیحہ
  30. صدقہ فطر اجناس کے بجائے قیمت (نقدی) کی صورت میں دینا؟
  31. عشرکی ادائیگی اور کھاد، دوائی وغیرہ کا خرچ
  32. کئی سالوں کی بقیہ زکوٰۃ
  33. محدثین کے ابواب ’’پہلے اور بعد؟!‘‘
  34. نبی کریم ﷺ کی حدیث کا دفاع
  35. رمضان کے روزوں کی قضا اور تسلسل
  36. وحدت الوجود کے ایک پیروکار ’’حسین بن منصور الحلاج‘‘ کے بارے میں تحقیق
  37. ابن عربی صوفی کا رد
  38. روزے کی حالت میں ہانڈی وغیرہ سے چکھنا؟
  39. قیامِ رمضان مستحب ہے
  40. رمضان میں سرکش شیاطین کا باندھا جانا
  41. گیارہ رکعات قیامِ رمضان (تراویح) کا ثبوت اور دلائل
  42. اسناد دین میں سے ہیں (اور) اگر سند نہ ہوتی تو جس کے جو دل میں آتا کہتا
  43. کیا ’’شرح السنۃ‘‘ کا مطبوعہ نسخہ امام حسن بن علی البربہاری سے ثابت ہے؟
  44. کیا اللہ تعالیٰ ہر جگہ بذاتہ موجود ہے؟
  45. مسنون وضو کا طریقہ، صحیح احادیث کی روشنی میں
  46. پندرہ شعبان کی رات اور مخصوص عبادت
  47. دورانِ تلاوت سلام کرنا
  48. سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ
  49. حق کی طرف رجوع
  50. دعاء کے فضائل و مسائل
  51. سلف صالحین اور بعض مسائل میں اختلاف
  52. اہلِ حدیث سے مراد ’’محدثینِ کرام اور اُن کے عوام‘‘ دونوں ہیں
  53. نمازِ باجماعت کے لئے کس وقت کھڑے ہونا چاہیے؟
  54. دھوپ اور چھاؤں میں بیٹھنا
  55. أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
  56. کیا شلوار (چادر وغیرہ) ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
  57. خوشحال بابا
  58. نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے والی حدیث صحیح ہے
  59. کلمۂ طیبہ کا ثبوت
  60. قبر میں نبی کریم ﷺ کی حیات کا مسئلہ
  61. شریعتِ اسلامیہ میں شاتمِ رسول کی سزا
  62. سیدنا خضر علیہ السلام نبی تھے
  63. دعا میں چہرے پر ہاتھ پھیرنا بالکل صحیح ہے
  64. سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ کا واقعہ؟
  65. کیا امام شافعی امام ابو حنیفہ کی قبر پر گئے تھے؟
  66. دیوبندی حضرات اہلِ سنت نہیں ہیں
  67. اللہ کی نعمت کے آثار بندے پر ((إِذَا اَتَاکَ اللہ مالاً فَلْیُرَ علیک))
  68. ایک مشت سے زیادہ داڑھی کاٹنا؟
  69. امام مالک اور نماز میں فرض، سنت و نفل کا مسئلہ
  70. اللہ کی معیت و قربت سے کیا مراد ہے؟
  71. سلف صالحین کے بارے میں آلِ دیوبند کی گستاخیاں
  72. ’’ماں کی نافرمانی کی سزا دُنیا میں‘‘ … ایک من گھڑت روایت کی تحقیق
  73. عالَمِ خواب اور نیند میں نبی ﷺ کے دیدار کی تین صحیح روایات اور خواب دیکھنے والے ثقہ بلکہ فوق الثقہ تھے
  74. مسئلۃ استواء الرحمٰن علی العرش
  75. ورثاء کی موجودگی میں ایک تہائی مال کی وصیت جائز ہے
  76. موجودہ حالات صحیح حدیث کی روشنی میں
  77. دعوتِ حق کے لئے مناظرہ کرنا
  78. قیامت اچانک آئے گی جس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے
  79. حدیث کا منکر جنت سے محروم رہے گا
  80. یہ کیسا فضول تفقہ ہے جس کے بھروسے پر بعض لوگ اپنے آپ کو فقیہ سمجھ بیٹھے ہیں۔!!
  81. بغیر شرعی عذر کے بیٹھ کر نماز پڑھنا
  82. سیدنا معاویہ بن ابی سفیان کاتبِ وحی رضی اللہ عنہ کی فضیلت
  83. اللہ تعالیٰ سات آسمانوں سے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے
  84. فجر کی اذان میں الصلوٰۃ خیر من النوم کہنا حدیث سے ثابت ہے
  85. اے اللہ! میرے اور گناہوں کے درمیان پردہ حائل کر دے
  86. جمعہ کے دن مقبولیتِ دعا کا وقت؟
  87. نظر بد سے بچاؤ کے لئے دھاگے اور منکے وغیرہ لٹکانا؟
  88. ایک دوسرے کو سلام کہنا
  89. سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے محبت
  90. صحابۂ کرام کے بعد کسی اُمتی کا خواب حجت نہیں ہے
  91. امام ابو بکر عبداللہ بن ابی داود رحمہ اللہ کے اشعار
  92. قمیص میں بند گلا ہو یا کالر، دونوں طرح جائز ہے
  93. امام ابوبکر بن ابی داود السجستانی رحمہ اللہ کا عظیم الشان حافظہ
  94. سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور ایک عورت کے بھوکے بچوں کا قصہ
  95. نبی کریم ﷺ کا اپنے اُمتیوں سے پیار
  96. یہ نہیں کرنا کہ اپنی مرضی کی روایت کو صحیح و ثابت کہہ دیں اور دوسری جگہ اسی کو ضعیف کہتے پھریں۔ یہ کام تو آلِ تقلید کا ہے!
  97. رفع الیدین کی مرفوع و صحیح احادیث کے مقابلے میں ضعیف و غیر ثابت آثار
  98. نبی ﷺ کی سنت یعنی حدیث کے مقابلے میں کسی کی تقلید جائز نہیں ہے
  99. تجھے تو اچھی طرح سے نماز پڑھنی ہی نہیں آتی!
  100. سیدنا ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ
  101. کیا کتوں کا بیچنا جائز ہے؟
  102. اہلِ حدیث کے نزدیک قرآن و حدیث اور اجماع کے صریح مخالف ہر قول مردود ہے خواہ اسے بیان کرنے یا لکھنے والا کتنا ہی عظیم المرتبت کیوں نہ ہو
  103. نمازی کے آگے سترہ رکھنا واجب ہے یا سنت؟
  104. رسول اللہ ﷺ کی حدیث کا احترام
  105. محرم کے بعض مسائل
  106. جنات کا وجود ایک حقیقت ہے
  107. سلف صالحین اور علمائے اہلِ سنت
  108. نبی کریم ﷺ پر جھوٹ بولنے والا جہنم میں جائے گا
  109. بے سند اقوال سے استدلال غلط ہے
  110. قربانی کے چار یا تین دن؟
  111. حالتِ نماز میں قرآن مجید دیکھ کر تلاوت کرنا
  112. قربانی کے بعض احکام و مسائل - دوسری قسط
  113. پوری اُمت کبھی بالاجماع شرک نہیں کرے گی
  114. قادیانیوں اور فرقۂ مسعودیہ میں 20 مشترکہ عقائد
  115. قربانی کے احکام و مسائل با دلائل
  116. مکمل نمازِ نبوی ﷺ - صحیح احادیث کی روشنی میں
  117. نبی کریم ﷺ نے سیدنا جُلَیبِیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ’’ھذا مني وأنا منہ‘‘
  118. کلید التحقیق: فضائلِ ابی حنیفہ کی بعض کتابوں پر تحقیقی نظر
  119. گھروں میں مجسمے رکھنا یا تصاویر لٹکانا یا تصاویر والے کپڑے پہننا
  120. اگر کسی شخص کا بیٹا فوت ہو جائے تو بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے پوتوں پوتیوں کے بارے میں وصیت لکھ دے
  121. اتباعِ سنت ہی میں نجات ہے
  122. رسول اللہ ﷺ اور بعض غیب کی اطلاع
  123. خطبۂ جمعہ کے چالیس مسائل
  124. خطبۂ جمعہ کے دوران کوئی یہ کہے کہ ’’چپ کر‘‘ تو ایسا کہنے والے نے بھی لغو یعنی باطل کام کیا
  125. عید کے بعض مسائل
  126. روزہ افطار کرنے کے بارے میں مُسَوِّفین (دیر سے روزہ افطار کرنے والوں) میں سے نہ ہونا
  127. اُصولِ حدیث اور مدلس کی عن والی روایت کا حکم
  128. رمضان کے آخری عشرے میں ہر طاق رات میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو
  129. جنازہ گزرنے پر کھڑا ہونے والا حکم منسوخ ہے
  130. اللہ تعالیٰ کا احسان اور امام اسحاق بن راہویہ کا حافظہ
  131. اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کریں
  132. دُور کی رُویت کا کوئی اعتبار نہیں ہے (رمضان المبارک کے بعض مسائل)
  133. شریعت میں باطنیت کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ ظاہر کا اعتبار ہے
  134. کیا قے (یعنی اُلٹی) آنے سے روزے کی قضا ہے؟
  135. طارق جمیل صاحب کی بیان کردہ روایتوں کی تحقیق
  136. اطلبوا العلم ولو بالصین - تم علم حاصل کرو، اگرچہ وہ چین میں ہو
  137. مونچھوں کے احکام و مسائل
  138. ضعیف روایات اور اُن کا حکم
  139. نماز باجماعت کا حکم
  140. چالیس حدیثیں یاد کرنے والی روایت
  141. نظر کا لگ جانا برحق ہے
  142. کتاب سے استفادے کے اصول
  143. حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی امام بخاری رحمہ اللہ تک سند
  144. سیرت رحمۃ للعالمین ﷺ کے چند پہلو
  145. شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
  146. چند فقہی اصطلاحات کا تعارف
  147. جو آدمی کوئی چیز لٹکائے گا وہ اسی کے سپرد کیا جائے گا
  148. کلامی لا ینسخ کلام اللہ – والی روایت موضوع ہے
  149. گانے بجانے اور فحاشی کی حرمت
  150. نفل نمازوں کے فضائل و مسائل
  151. مساجد میں عورتوں کی نماز کے دس دلائل
  152. ایک صحیح العقیدہ یعنی اہل حدیث بادشاہ کا عظیم الشان قصہ
  153. نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک احادیث صحیحہ سے بطورخلاصہ پیش خدمت ہے
  154. نبی کریم ﷺ کے معجزے
  155. سجدے کی حالت میں ایڑیوں کا ملانا آپ ﷺ سے باسند صحیح ثابت ہے
  156. باجماعت نماز میں صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز
  157. نمازِ تسبیح / صلوٰۃ التسبیح
  158. کیا ملک الموت علیہ السلام کا نام یعنی ’’عزرائیل‘‘ قرآن یا حدیث سے ثابت ہے؟
  159. ختمِ نبوت پر چالیس (40) دلائل
  160. چالیس (40) مسائل جو صراحتاً صرف اجماع سے ثابت ہیں
  161. وعظ و نصیحت اور دعوت و تبلیغ کے بارے میں سنہری ہدایات
  162. جہنم سانس باہر نکالتی ہے تو گرمی زیادہ ہو جاتی ہے
  163. سب اہلِ ایمان بھائی بھائی ہیں
  164. اللہ پر ایمان اور ثابت قدمی
  165. ماہِ صفر کے بعض مسائل
  166. محمد رسول اللہ ﷺ کا سایہ مبارک
  167. ابو الطفیل عامر بن واثلہ، صحابہ کرام میں وفات پانے والے آخری صحابی تھے
IshaatulHadith Hazro © 2020 (websites) - contact us