zubair ali zai

مسئلۃ استواء الرحمٰن علی العرش

تحریر: محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ


قرآن مجیدکی روشنی میں:

1- اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’بے شک تمھارارب اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ (سورۃ الأعراف: 54)

(نیز دیکھئے سورۂ یونس: 3، الرعد: 2، طٰہٰ: 5، الفرقان: 59، السجدۃ: 4، الحدید: 4، استویٰ کا مطلب ہے ارتفع، علا، یعنی بلند ہوا ہے، دیکھئے صحیح بخاری کتاب التوحید اور تحقیقی مقالات 1/ 13، 14)

2- ’’اس کا عرش پانی پر تھا۔‘‘ (ھود: 7)

(نیز دیکھئے التوبۃ: 129، الانبیاء: 22، المومنون: 116، 86، النمل: 26، المومن: 7، 15، الزخرف:82، البروج: 15)

3- ’’اور اس دن آپ کے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائیں گے آٹھ (فرشتے)‘‘ (الحاقۃ: 17، نیز دیکھئے الزمر: 75)

4- ’’کیا تم اس سے بے خوف ہو جو آسمان میں (یعنی اوپر) ہے کہ وہ تمھیں زمین میں دھنسا دے، پھر وہ تیزی کے ساتھ ہلنے لگ جائے۔‘‘ (الملک: 16، نیز دیکھئے الملک: 17، القصص: 38، المومن: 36۔ 37، بنی اسرائیل: 42، الأنعام: 18، 61، النحل: 56، البقرۃ: 144)

5- ’’اور انھوں نے یقینا اسے قتل نہیں کیا (یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو) بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ (النساء: 157۔158، نیز دیکھئے اٰل عمران: 55، اس پر امت کا اجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھا لیے گئے تھے اور وہ آسمان میں زندہ ہیں۔ آسمان سے اتریں گے اور دجال کو قتل کر دیں گے۔ دیکھئے تحقیقی مقالات: 1/ 87)

6- ’’آسمان سے زمین تک تدبیرِ امور کرتا ہے، پھر وہ (امر)اس کی طرف چڑھتا ہے ایک دن میں (کہ) جس کی مقدار ہزار سال ہے۔‘‘ (السجدۃ: 5)

7- ’’اسی کی طرف چڑھتی ہیں پاکیزہ باتیں اور صالح عمل وہی اسے (بھی) اوپر اٹھاتا ہے‘‘ (الفاطر: 10)

8- ’’آپ کا رب آئے گا اور فرشتے صف بہ صف۔‘‘ (الفجر: 22)

9- ’’اس جیسا کوئی بھی نہیں ہے اور وہ سننے، دیکھنے والا ہے۔‘‘ (الشوریٰ: 11)

احادیث کی روشنی میں:

1- (معاویہ بن الحکم السلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ((أَیْنَ اللہُ؟)) اللہ کہاں ہے؟

تو لونڈی نے عرض کیا: ’’فِی السَّمَاءِ‘‘ آسمان میں (یعنی آسمانوں سے اوپر) ہے۔

آپ نے فرمایا: ’’میں کون ہوں؟‘‘

لونڈی نے کہا: اللہ کے رسول۔

آپ نے فرمایا: ((أَعْتِقْھَا فَإِنَّھَا مُؤْمِنَۃٌ)) ’’اسے آزاد کر دو یہ مومنہ عورت ہے۔‘‘

(صحیح مسلم:537، کتاب التوحید لابن خزیمۃ 1/ 279 وسندہ صحیح)

2- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

رسول اللہ ﷺ نے یوم عرفہ کے خطبہ میں فرمایا: ’’کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟‘‘

تو صحابہ نے جواب دیا: جی ہاں۔

آپ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور فرمایا: ’’اے اللہ! گواہ رہ۔‘‘

(صحیح مسلم 1/ 397 ح 1218)

3- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((الرَّاحِمُوْنَ یَرْحَمُھُمُ الرَّحْمٰنُ، اِرْحَمُوْا مَنْ فِی الْأَرْضِ یَرْحَمُکُمْ مَنْ فِی السَّمَاءِ))

’’رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو تم پر جو آسمان میں (اوپر) ہے رحم فرمائے گا۔‘‘

(رواہ الترمذي 2 / 14، وقال: ھذا حدیث حسن صحیح، وصححہ الحاکم 4/ 159، ووافقہ الذہبی، وسندہ حسن)

4- ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((أَلاَ تَأْمَنُوْنِیْ وَ أَنَا أَمِیْنَ مَنْ فِی السَّمَاءِ؟ یَأْتِینِیْ خَبَرُ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَ مَسَاءً))

’’کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے اور میں اس کا امین ہوں جو آسمان میں ہے۔ میرے پاس صبح و شام آسمان کی خبریں آتی ہیں۔‘‘

(صحیح بخاری 2/ 624 ح 4351 وصحیح مسلم 1/ 341 ح 1064)

5- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو مرد اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلاتا ہے، پھر وہ انکار کر دیتی ہے تو وہ جو آسمان میں ہے اس عورت پر ناراض ہو جاتا ہے جب تک مرد اس سے راضی نہ ہوجائے۔‘‘

(صحیح مسلم 1/ 464 ح 1436)

6- رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((یَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی کُلَّ لَیْلَۃٍ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْیَا……))

’’ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات دنیا کے آسمان پر نازل ہوتا (اترتا) ہے۔‘‘

(موطأ امام مالک ص 197، واللفظ لہ، صحیح بخاري: 2/ 1116 ح 1145، صحیح مسلم 1/ 258 ح 758، یہ حدیث متواتر ہے)

7- نبی ﷺ نے فرمایا:

’’(نیک روح سے) کہا جاتا ہے: ((مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الطَّیِّبَۃِ)) پاکیزہ نفس کو خوش آمدید ((فَلاَ یَزَالُ یُقَالُ لَھَا ذَلِکَ حَتَّی یُنْتَھی بِھَا إِلَی السَّمَاءِ الَّتِيْ فِیْھَا اللہُ عَزَّ وَجَلَّ)) اسی طرح کہا جاتا ہے حتیٰ کہ اس روح کو اس آسمان تک پہنچا دیا جاتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ ہے۔‘‘

(مسند أحمد: 2/ 264 وسندہ صحیح)

8- اور فرمایا:

((إِنَّ اللہَ لَمَّا قَضَی الْخلْقَ کَتَبَ عِنْدَہٗ فَوْقَ عَرْشِہٖ إِنَّ رَحْمَتِيْ سَبَقَتْ غَضَبِيْ))

’’جب اللہ نے تخلیق پوری کر دی تو اپنے پاس عرش کے اوپر (ایک کتاب میں) لکھ کر رکھ دیا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔‘‘

(صحیح بخاري 2/ 1104 ح 7422 واللفظ لہ، صحیح مسلم 2/ 356 ح 2751)

9- نیز فرمایا:

((یَصْعَقُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَإِذَا أَنَا بِمُوْسٰی آخِذٌ بِقَائِمَۃٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ))

’’قیامت کے دن سب بے ہوش ہو جائیں گے (پھر میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا) تو دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کے پایوں میں سے ایک پایہ پکڑے کھڑے ہیں (یعنی وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آجائیں گے)‘‘

(صحیح بخاري: 2/ 1104 ح 7427، واللفظ لہ، صحیح مسلم: 2/ 267 ح 2373)

10- نبی کریم ﷺ فرمایا:

((فَرَجَعَ إِلٰی رَبِّہِ، فَقَالَ: أَرْسَلْتَنِيْ إِلٰی عَبْدٍ ……))

’’پھر وہ (موت کا فرشتہ) اپنے رب کی طرف واپس گیا اور کہا: تو نے مجھے اپنے بندے (موسیٰ علیہ السلام) کی طرف بھیجا۔‘‘

(صحیح بخاري: 1339، 3407، صحیح مسلم:2372)

آثارِ صحابہ

1- جب رسول اللہ ﷺ فوت ہوئے تو امیر المومنین سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا:

’’جو محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو وہ جان لے کہ بلا شبہ محمد ﷺ فوت ہو چکے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو وہ جان لے کہ اللہ آسمان میں زندہ ہے اس پر موت نہیں آئے گی۔‘‘

(الرد علی الجہمیہ للدارمی: ص 78 وسندہ حسن، التاریخ الکبیر 1/ 201۔202)

2- ام المومنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا دوسری ازواج النبی ﷺ پر فخر کرتے ہوئے فرمایا کرتی تھیں:

’’زَوَّجَنِيْ اللہُ تَعَالٰی مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَوَاتٍ‘‘

مجھے اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے نبی ﷺ کی بیوی بنایا ہے۔

(صحیح بخاري:7420)

3- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا:

’’اللہ نے آپ کی برأت سات آسمانوں کے اوپر سے نازل کی ہے۔‘‘

(طبقات ابن سعد: 8/ 70 و سندہ حسن، و أصلہ فی صحیح البخاري 2/ 669)

4- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’آسمان دنیا اور دوسرے آسمان کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے اور ہر آسمان کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ ساتویں آسمان اور کرسی کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے اور کرسی اور پانی کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ کرسی پانی کے اوپر ہے اور اللہ کرسی کے اوپر ہے اور وہ تمھارے اعمال جانتا ہے۔‘‘

(کتاب التوحید لابن خزیمۃ: 1/ 244 و سندہ حسن)

5- سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’بے شک اللہ حیا فرماتا ہے جب بندہ اس کی طرف ہاتھ پھیلاتا ہے کہ انھیں خالی لوٹا دے۔‘‘

(رواہ الحاکم فی المستدرک 1/ 497 وصححہ علی شرط الشیخین ووافقہ الذہبی)

(یہ حدیث مرفوعاً بھی صحیح ثابت ہے۔ دیکھئے ابو دادو:1488، الترمذی: 3556، ابن ماجہ: 3865)

6- ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر سے جانتا ہے کہ میں عثمان کے قتل کو پسند نہیں کرتی تھی۔‘‘

(رواہ الدارمی فی الرد علی الجہمیۃ ص 27 وقال الالباني: و إسنادہ صحیح / مختصر العلو ص 104)

اس پر صحابہ و تابعین کا اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ سات آسمانوں سے اوپر عرش پر مستوی ہے (جس کی کیفیت ہمیں معلوم نہیں) اس کے خلاف صحابہ و تابعین سے کچھ بھی ثابت نہیں ہے۔

جہمیہ کے شبہات اور ان کے جوابات

بعض لوگ کہتے ہیں: وہ ان کے ساتھ ہے وہ جہاں بھی ہوں۔ (المجادلۃ:7)

اسی طرح وہ آیت کہ ہم شاہ رگ سے زیادہ قریب ہیں۔ (قٓ: 16)

ان آیات کا مفہوم یہ ہے کہ اس معیت کا مفہوم اللہ تعالیٰ کا علم ہے اسی بات پر صحابہ و تابعین کا اجماع ہو چکا ہے۔ (توحید خالص ص 276، الرد علی الجہمیۃ ص 19، شرح حدیث النزول ص 74)

دوسرے یہ کہ ان آیات میں خود علم کا (نعلم، یعلم وغیرہ) ذکر ہے۔ جو اس بات کی قوی دلیل ہے کہ یہ معیت بالعلم ہے۔

تیسرے یہ کہ دیگر آیات، صحیح احادیث اور اجماع صحابہ ان آیات کے عموم کی تخصیص کرتا ہے۔

یاد رہے کہ قرآن و حدیث میں یہ کہیں بھی نہیں ہے کہ اللہ ہر جگہ (اپنی ذات کے ساتھ) موجود ہے۔ تعالی اللہ عن ذلک علوًا کبیرًا۔ اور اللہ کے لیے ’’حاضر‘‘ کا لفظ قرآن و حدیث اوراجماع سے قطعاً ثابت نہیں ہے۔

عقلی دلائل

1- لوگ دعا کرتے وقت ہاتھ اوپر اٹھاتے ہیں۔

2- نبی ﷺ معراج کی رات آسمانوں پر اللہ کے پاس گئے تھے۔

3- فرشتے آسمانوں سے زمین پر اترتے ہیں اور زمین سے آسمانوں پر جاتے ہیں اور اللہ ان سے اپنے بندوں کے بارے میں سوال کرتا ہے، حالانکہ وہ خود سب سے زیادہ جانتا ہے۔

4- خالق اپنی مخلوق سے جدا ہے۔

تنبیہ: اس موضوع پر سیر حاصل بحث کے لیے دیکھئے مقالات (1/ 13) اور فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (1/ 29 تا 55) وغیرہ۔

اصل مضمون کے لئے دیکھئے فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (جلد 3 صفحہ 64 تا 70) نیز دیکھئے ماہنامہ الحدیث حضرو (116 ص 11 تا 16)

ہماری موبائل ایپ انسٹال کریں۔ تحقیقی مضامین اور تحقیقی کتابوں کی موجودہ وقت میں ان شاء اللہ سب سے بہترین ایپ ہے، والحمدللہ۔

دیگر بلاگ پوسٹس:

  1. ایمان میں کمی بیشی کا مسئلہ
  2. حالتِ سجدہ میں ہاتھوں کی انگلیاں ملانا؟
  3. سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مقام
  4. قرآن و حدیث کو تمام آراء و فتاویٰ پر ہمیشہ ترجیح حاصل ہے
  5. قربانی کا گوشت اور غیر مسلم؟
  6. نابالغ قارئ قرآن کی امامت
  7. مسلمان کی جان بچانے کے لئے خون دینا
  8. قربانی کے جانور کی شرائط
  9. امام شافعی رحمہ اللہ ضعیف روایات کو حجت نہیں سمجھتے تھے
  10. امام نسائی رحمہ اللہ کی وفات کا قصہ
  11. فضائلِ اذکار
  12. سورة یٰسین کی فضیلت
  13. اللہ کے لئے خدا کا لفظ بالاجماع جائز ہے
  14. رفع یدین کے خلاف ایک نئی روایت — أخبار الفقہاء والمحدثین؟
  15. پانچ فرض نمازوں کی رکعتیں اور سنن و نوافل
  16. اذان اور اقامت کے مسائل
  17. نمازِ جمعہ رہ جانے کی صورت میں ظہر کی ادائیگی
  18. قرآن مجید کے سات قراءتوں پر نازل ہونے والی حدیث متواتر ہے
  19. ائمہ کرام سے اختلاف، دلائل کے ساتھ
  20. نمازِ عید کے بعد ’’تقبل اللہ منا و منک‘‘ کہنا
  21. تکبیراتِ عیدین کے الفاظ
  22. صحیح الاقوال فی استحباب صیام ستۃ من شوال
  23. تکبیراتِ عیدین میں رفع الیدین کا ثبوت
  24. تکبیراتِ عیدین
  25. عیدین میں 12 تکبیریں اور رفع یدین
  26. تمام مساجد میں اعتکاف جائز ہے
  27. حالتِ اعتکاف میں جائز اُمور
  28. روزہ اور اعتکاف کے اجماعی مسائل
  29. اعتکاف کے متعلق بعض آثارِ صحیحہ
  30. صدقہ فطر اجناس کے بجائے قیمت (نقدی) کی صورت میں دینا؟
  31. عشرکی ادائیگی اور کھاد، دوائی وغیرہ کا خرچ
  32. کئی سالوں کی بقیہ زکوٰۃ
  33. محدثین کے ابواب ’’پہلے اور بعد؟!‘‘
  34. نبی کریم ﷺ کی حدیث کا دفاع
  35. رمضان کے روزوں کی قضا اور تسلسل
  36. وحدت الوجود کے ایک پیروکار ’’حسین بن منصور الحلاج‘‘ کے بارے میں تحقیق
  37. ابن عربی صوفی کا رد
  38. روزے کی حالت میں ہانڈی وغیرہ سے چکھنا؟
  39. قیامِ رمضان مستحب ہے
  40. رمضان میں سرکش شیاطین کا باندھا جانا
  41. گیارہ رکعات قیامِ رمضان (تراویح) کا ثبوت اور دلائل
  42. اسناد دین میں سے ہیں (اور) اگر سند نہ ہوتی تو جس کے جو دل میں آتا کہتا
  43. کیا ’’شرح السنۃ‘‘ کا مطبوعہ نسخہ امام حسن بن علی البربہاری سے ثابت ہے؟
  44. کیا اللہ تعالیٰ ہر جگہ بذاتہ موجود ہے؟
  45. مسنون وضو کا طریقہ، صحیح احادیث کی روشنی میں
  46. پندرہ شعبان کی رات اور مخصوص عبادت
  47. دورانِ تلاوت سلام کرنا
  48. سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ
  49. حق کی طرف رجوع
  50. دعاء کے فضائل و مسائل
  51. سلف صالحین اور بعض مسائل میں اختلاف
  52. اہلِ حدیث سے مراد ’’محدثینِ کرام اور اُن کے عوام‘‘ دونوں ہیں
  53. نمازِ باجماعت کے لئے کس وقت کھڑے ہونا چاہیے؟
  54. دھوپ اور چھاؤں میں بیٹھنا
  55. أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
  56. کیا شلوار (چادر وغیرہ) ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
  57. خوشحال بابا
  58. نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے والی حدیث صحیح ہے
  59. کلمۂ طیبہ کا ثبوت
  60. قبر میں نبی کریم ﷺ کی حیات کا مسئلہ
  61. شریعتِ اسلامیہ میں شاتمِ رسول کی سزا
  62. سیدنا خضر علیہ السلام نبی تھے
  63. دعا میں چہرے پر ہاتھ پھیرنا بالکل صحیح ہے
  64. سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ کا واقعہ؟
  65. کیا امام شافعی امام ابو حنیفہ کی قبر پر گئے تھے؟
  66. دیوبندی حضرات اہلِ سنت نہیں ہیں
  67. اللہ کی نعمت کے آثار بندے پر ((إِذَا اَتَاکَ اللہ مالاً فَلْیُرَ علیک))
  68. ایک مشت سے زیادہ داڑھی کاٹنا؟
  69. امام مالک اور نماز میں فرض، سنت و نفل کا مسئلہ
  70. اللہ کی معیت و قربت سے کیا مراد ہے؟
  71. سلف صالحین کے بارے میں آلِ دیوبند کی گستاخیاں
  72. ’’ماں کی نافرمانی کی سزا دُنیا میں‘‘ … ایک من گھڑت روایت کی تحقیق
  73. عالَمِ خواب اور نیند میں نبی ﷺ کے دیدار کی تین صحیح روایات اور خواب دیکھنے والے ثقہ بلکہ فوق الثقہ تھے
  74. مسئلۃ استواء الرحمٰن علی العرش
  75. ورثاء کی موجودگی میں ایک تہائی مال کی وصیت جائز ہے
  76. موجودہ حالات صحیح حدیث کی روشنی میں
  77. دعوتِ حق کے لئے مناظرہ کرنا
  78. قیامت اچانک آئے گی جس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے
  79. حدیث کا منکر جنت سے محروم رہے گا
  80. یہ کیسا فضول تفقہ ہے جس کے بھروسے پر بعض لوگ اپنے آپ کو فقیہ سمجھ بیٹھے ہیں۔!!
  81. بغیر شرعی عذر کے بیٹھ کر نماز پڑھنا
  82. سیدنا معاویہ بن ابی سفیان کاتبِ وحی رضی اللہ عنہ کی فضیلت
  83. اللہ تعالیٰ سات آسمانوں سے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے
  84. فجر کی اذان میں الصلوٰۃ خیر من النوم کہنا حدیث سے ثابت ہے
  85. اے اللہ! میرے اور گناہوں کے درمیان پردہ حائل کر دے
  86. جمعہ کے دن مقبولیتِ دعا کا وقت؟
  87. نظر بد سے بچاؤ کے لئے دھاگے اور منکے وغیرہ لٹکانا؟
  88. ایک دوسرے کو سلام کہنا
  89. سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے محبت
  90. صحابۂ کرام کے بعد کسی اُمتی کا خواب حجت نہیں ہے
  91. امام ابو بکر عبداللہ بن ابی داود رحمہ اللہ کے اشعار
  92. قمیص میں بند گلا ہو یا کالر، دونوں طرح جائز ہے
  93. امام ابوبکر بن ابی داود السجستانی رحمہ اللہ کا عظیم الشان حافظہ
  94. سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور ایک عورت کے بھوکے بچوں کا قصہ
  95. نبی کریم ﷺ کا اپنے اُمتیوں سے پیار
  96. یہ نہیں کرنا کہ اپنی مرضی کی روایت کو صحیح و ثابت کہہ دیں اور دوسری جگہ اسی کو ضعیف کہتے پھریں۔ یہ کام تو آلِ تقلید کا ہے!
  97. رفع الیدین کی مرفوع و صحیح احادیث کے مقابلے میں ضعیف و غیر ثابت آثار
  98. نبی ﷺ کی سنت یعنی حدیث کے مقابلے میں کسی کی تقلید جائز نہیں ہے
  99. تجھے تو اچھی طرح سے نماز پڑھنی ہی نہیں آتی!
  100. سیدنا ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ
  101. کیا کتوں کا بیچنا جائز ہے؟
  102. اہلِ حدیث کے نزدیک قرآن و حدیث اور اجماع کے صریح مخالف ہر قول مردود ہے خواہ اسے بیان کرنے یا لکھنے والا کتنا ہی عظیم المرتبت کیوں نہ ہو
  103. نمازی کے آگے سترہ رکھنا واجب ہے یا سنت؟
  104. رسول اللہ ﷺ کی حدیث کا احترام
  105. محرم کے بعض مسائل
  106. جنات کا وجود ایک حقیقت ہے
  107. سلف صالحین اور علمائے اہلِ سنت
  108. نبی کریم ﷺ پر جھوٹ بولنے والا جہنم میں جائے گا
  109. بے سند اقوال سے استدلال غلط ہے
  110. قربانی کے چار یا تین دن؟
  111. حالتِ نماز میں قرآن مجید دیکھ کر تلاوت کرنا
  112. قربانی کے بعض احکام و مسائل - دوسری قسط
  113. پوری اُمت کبھی بالاجماع شرک نہیں کرے گی
  114. قادیانیوں اور فرقۂ مسعودیہ میں 20 مشترکہ عقائد
  115. قربانی کے احکام و مسائل با دلائل
  116. مکمل نمازِ نبوی ﷺ - صحیح احادیث کی روشنی میں
  117. نبی کریم ﷺ نے سیدنا جُلَیبِیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ’’ھذا مني وأنا منہ‘‘
  118. کلید التحقیق: فضائلِ ابی حنیفہ کی بعض کتابوں پر تحقیقی نظر
  119. گھروں میں مجسمے رکھنا یا تصاویر لٹکانا یا تصاویر والے کپڑے پہننا
  120. اگر کسی شخص کا بیٹا فوت ہو جائے تو بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے پوتوں پوتیوں کے بارے میں وصیت لکھ دے
  121. اتباعِ سنت ہی میں نجات ہے
  122. رسول اللہ ﷺ اور بعض غیب کی اطلاع
  123. خطبۂ جمعہ کے چالیس مسائل
  124. خطبۂ جمعہ کے دوران کوئی یہ کہے کہ ’’چپ کر‘‘ تو ایسا کہنے والے نے بھی لغو یعنی باطل کام کیا
  125. عید کے بعض مسائل
  126. روزہ افطار کرنے کے بارے میں مُسَوِّفین (دیر سے روزہ افطار کرنے والوں) میں سے نہ ہونا
  127. اُصولِ حدیث اور مدلس کی عن والی روایت کا حکم
  128. رمضان کے آخری عشرے میں ہر طاق رات میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو
  129. جنازہ گزرنے پر کھڑا ہونے والا حکم منسوخ ہے
  130. اللہ تعالیٰ کا احسان اور امام اسحاق بن راہویہ کا حافظہ
  131. اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کریں
  132. دُور کی رُویت کا کوئی اعتبار نہیں ہے (رمضان المبارک کے بعض مسائل)
  133. شریعت میں باطنیت کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ ظاہر کا اعتبار ہے
  134. کیا قے (یعنی اُلٹی) آنے سے روزے کی قضا ہے؟
  135. طارق جمیل صاحب کی بیان کردہ روایتوں کی تحقیق
  136. اطلبوا العلم ولو بالصین - تم علم حاصل کرو، اگرچہ وہ چین میں ہو
  137. مونچھوں کے احکام و مسائل
  138. ضعیف روایات اور اُن کا حکم
  139. نماز باجماعت کا حکم
  140. چالیس حدیثیں یاد کرنے والی روایت
  141. نظر کا لگ جانا برحق ہے
  142. کتاب سے استفادے کے اصول
  143. حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی امام بخاری رحمہ اللہ تک سند
  144. سیرت رحمۃ للعالمین ﷺ کے چند پہلو
  145. شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
  146. چند فقہی اصطلاحات کا تعارف
  147. جو آدمی کوئی چیز لٹکائے گا وہ اسی کے سپرد کیا جائے گا
  148. کلامی لا ینسخ کلام اللہ – والی روایت موضوع ہے
  149. گانے بجانے اور فحاشی کی حرمت
  150. نفل نمازوں کے فضائل و مسائل
  151. مساجد میں عورتوں کی نماز کے دس دلائل
  152. ایک صحیح العقیدہ یعنی اہل حدیث بادشاہ کا عظیم الشان قصہ
  153. نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک احادیث صحیحہ سے بطورخلاصہ پیش خدمت ہے
  154. نبی کریم ﷺ کے معجزے
  155. سجدے کی حالت میں ایڑیوں کا ملانا آپ ﷺ سے باسند صحیح ثابت ہے
  156. باجماعت نماز میں صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز
  157. نمازِ تسبیح / صلوٰۃ التسبیح
  158. کیا ملک الموت علیہ السلام کا نام یعنی ’’عزرائیل‘‘ قرآن یا حدیث سے ثابت ہے؟
  159. ختمِ نبوت پر چالیس (40) دلائل
  160. چالیس (40) مسائل جو صراحتاً صرف اجماع سے ثابت ہیں
  161. وعظ و نصیحت اور دعوت و تبلیغ کے بارے میں سنہری ہدایات
  162. جہنم سانس باہر نکالتی ہے تو گرمی زیادہ ہو جاتی ہے
  163. سب اہلِ ایمان بھائی بھائی ہیں
  164. اللہ پر ایمان اور ثابت قدمی
  165. ماہِ صفر کے بعض مسائل
  166. محمد رسول اللہ ﷺ کا سایہ مبارک
  167. ابو الطفیل عامر بن واثلہ، صحابہ کرام میں وفات پانے والے آخری صحابی تھے
IshaatulHadith Hazro © 2020 (websites) - contact us