zubair ali zai

تمام مساجد میں اعتکاف جائز ہے


محدث العصر الشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ سے کسی نے سوال کیا کہ ’’کیا تین مساجد: مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے علاوہ دوسری مساجد میں اعتکاف بیٹھنا جائز ہے؟‘‘

الجواب للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَلَا تُبَاشِرُوْھُنَّ وَاَنْتُمْ عٰکِفُوْنَ فِی الْمَسٰجِدِ

اور اپنی بیویوں سے اس وقت جماع نہ کرو جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہوئے ہو۔

(البقرۃ: 187)

اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ ہر مسجد میں اعتکاف جائز ہے۔ جمہور علماء نے اس آیت کریمہ سے استدلال کر کے ہر مسجد میں اعتکاف کو جائز قرار دیا ہے۔ دیکھئے شرح السنۃ للبغوی (ج 6 ص 394) مرعاۃ المفاتیح (ج 7 ص 165)

اس کے مقابلے میں بعض لوگوں کا یہ مؤقف ہے کہ صرف تین مساجد میں ہی اعتکاف جائز ہے: مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ!

ان کے نزدیک دیگر مساجد میں اعتکاف جائز نہیں ہے۔

یہ لوگ اپنے دعویٰ کی تائید میں ایک روایت پیش کرتے ہیں:

سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِيْ رَاشِدٍ، عَنْ أَبِيْ وَائِلٍ قَالَ: قَالَ حُذَیْفَۃُ لِعَبْدِاللہِ: عُکُوفٌ بَیْنَ دَارِکَ وَدَارِ أَبِيْ مُوسَی لَاتُغَیِّرُ، وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ قَالَ: ((لَا اعْتِکَافَ إِلَّا فِی الْمَسَاجِدِ الثَّلَاثَۃِ))

رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: تین مساجد کے علاوہ (کسی مسجد میں) اعتکاف نہیں ہے۔

(المعجم للاسماعیلی 2/3/ 720 ح 336 واللفظ لہ، سیر اعلام النبلاء للذہبی 15/ 81، وقال:’’صحیح غریب عال‘‘ السنن الکبریٰ للبیہقی 4/ 316، مشکل الآثار 4/ 20، المحلیٰ لا بن حزم 5/ 194، مسئلہ: 633)

یہ روایت بلحاظ سند ضعیف ہے۔ اس کی تمام اسانید میں سفیان بن عیینہ راوی موجود ہیں جو کہ عن سے روایت کرتے ہیں۔ کسی ایک سند میں بھی ان کے سماع کی تصریح موجود نہیں ہے، سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ ثقہ حافظ اور مشہور مدلس تھے۔

حافظ ابن حبان لکھتے ہیں:

’’وھذا لیس فی الدنیا إلا لسفیان بن عیینۃ وحدہ فإنہ کان یدلس ولا یدلس إلا عن ثقۃ متقن‘‘

دنیا میں اس کی مثال صرف سفیان بن عیینہ ہی اکیلے کی ہے، کیونکہ آپ تدلیس کرتے تھے مگر ثقہ متقن کے علاوہ کسی دوسرے سے تدلیس نہیں کرتے تھے۔

(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ج 1 ص 90، دوسرا نسخہ ج 1 ص 161)

امام ابن حبان کے شاگرد امام دارقطنی وغیرہ کا بھی یہی خیال ہے۔ (دیکھئے سوالات الحاکم للدارقطنی ص 175)

امام سفیان بن عیینہ درج ذیل ثقات سے بھی تدلیس کرتے تھے:

1) علی بن المدینی،

2) ابو عاصم، اور

3) ابن جریج

(دیکھئے الکفایۃ فی علم الروایہ للخطیب ص 362، نعمت الاثاثہ لتخصیص الاعتکاف بالمساجد الثلاثہ ص 79)

ایک دفعہ سفیان (بن عیینہ) نے (امام) زہری سے حدیث بیان کی بعد میں پوچھنے والوں کو بتایا کہ میں نے یہ زہری سے نہیں سنی اور نہ اس سے سنی ہے جس نے زہری سے سنا ہے۔

’’لَمْ أَسْمَعْہُ مِنَ الزُّہْرِيِّ وَلَا مِمَّنْ سَمِعَہُ مِنَ الزُّہْرِيِّ، حَدَّثَنِيْ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِيِّ‘‘

مجھے عبدالرزاق نے عن معمر عن الزہری یہ حدیث سنائی ہے۔

(علوم الحدیث للحاکم ص 105، الکفایہ ص 359، مقدمہ ابن الصلاح ص 95، 96، اختصار علوم الحدیث ص 51، تدریب الراوی ج 1 ص 224، فتح المغیث ج 1 ص 183)

[تنبیہ: اس روایت کی سند ابراہیم بن محمد السکونی السکری کے مجہول الحال ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔]

ایک دفعہ آپ نے عمرو بن دینار (ثقہ) سے ایک حدیث بیان کی۔ پوچھنے پر بتایا کہ:

’’حَدَّثَنِيْ عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِيِّ عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ مَخْلَدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ‘‘

مجھے علی بن مدینی نے عن الضحاک بن مخلد عن ابن جریج عن عمرو بن دینار کی سند سے یہ حدیث سنائی۔

(فتح المغیث 1 ص 184)

[یہ روایت صحیح سند کے ساتھ الکفایہ ص 359۔360 میں مطولاً موجود ہے۔]

حدیث اور اصول حدیث کے عام طالب علموں کو بھی معلوم ہے کہ یہ سند ابن جریج کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ ابن جریج کا ضعفاء سے تدلیس کرنا بہت زیادہ مشہور ہے۔ (دیکھئے الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین ص 55، 56)

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ابن عیینہ جن ثقہ شیوخ سے تدلیس کرتے تھے ان میں سے بعض بذاتِ خود مدلس تھے مثلاً ابن جریج وغیرہ۔ ابن عیینہ کے اساتذہ میں امام زہری، محمد بن عجلان اور سفیان ثوری وغیرہم تدلیس کرتے تھے لہٰذا امام سفیان بن عیینہ کا عنعنہ مشکوک ہے۔ رہا یہ مسئلہ کہ آپ صرف ثقہ سے ہی تدلیس کرتے تھے، محل نظر ہے۔

سفیان (بن عیینہ) نے محمد بن اسحاق کے بارے میں امام زہری کا قول نقل کیا کہ:

’’أما إِنَّہ لَایزَال فِی النَّاس علم مَا بقي ہَذَا‘‘

لوگوں میں اس وقت تک علم باقی رہے گا جب تک یہ (محمد بن اسحاق بن یسار) زندہ ہیں۔

(تاریخ یحییٰ بن معین ج 1 ص 504، دوسرانسخہ 157 ت 979 من زوائد عباس الدوری، الکامل ابن عدی ج 6 ص 2119، میزان الاعتدال ج 3 ص 472)

اس روایت میں سفیان کے سماع کی تصریح نہیں ہے۔

سفیان نے یہ قول ابوبکر الہذلی سے سنا تھا۔ (الجرح والتعدیل ج 7 ص 191)

لہٰذا یہ ثابت ہوا کہ سفیان بن عیینہ نے الہذلی سے تدلیس کی ہے۔

یہ الہذلی متروک الحدیث ہے۔ (دیکھئے تقریب التہذیب 397)

سفیان بن عیینہ نے حسن بن عمارہ (متروک / تقریب التہذیب ص 71) سے بھی تدلیس کی ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ (ص 151)

خلاصہ یہ کہ امام سفیان بن عیینہ کا صرف ثقہ سے ہی تدلیس کرنا محل نظر ہے، یہ اکثریتی قاعدہ تو ہو سکتا ہے کلی قاعدہ نہیں ہو سکتا۔

محدثینِ کرام نے ثقہ تابعی کی مرسل روایت اس خدشہ کی وجہ سے رد کر دی ہے کہ ہو سکتا ہے، اس نے غیر صحابی سے سنا ہو۔ اگر غیر صحابی (یعنی تابعی وغیرہ) سے سنا ہے تو ہو سکتا ہے کہ راوی ثقہ ہو یا ضعیف، لہٰذا مرسل روایت ضعیف ہوتی ہے۔ بعینہ اسی طرح ’’لا اعتکاف‘‘ والی روایت دو وجہ سے ضعیف ہے:

1) ہو سکتا ہے کہ سفیان عیینہ نے یہ روایت ثقہ سے سنی تھی یا غیر ثقہ سے؟ اگر غیر ثقہ سے سنی ہے تو مردود ہے۔

2) اگر ثقہ سے سنی تھی تو ہو سکتا ہے یہ ثقہ بذات خود مدلس ہوں، جیسا کہ اوپر واضح کر دیا گیا ہے۔ جب سفیان کا استاد بذات خود مدلس ہے تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ اس نے ضرور بالضروریہ روایت اپنے استاد سے ہی سنی تھی؟ جب اس کے سماع کی تصریح معلوم کرنا ناممکن ہے تو یہ خدشہ قوی ہے کہ اس کی بیان کردہ روایت اس کے ضعیف استاد کی وجہ سے ضعیف ہو۔ لہٰذا اس روایت کو شیخ ابو عمر عبدالعزیز نورستانی حفظہ اللہ کا حافظ ذہبی کی پیروی کرتے ہوئے، ’’صحیح عندي‘‘ کہنا صحیح نہیں ہے بلکہ اصول حدیث کے سراسر خلاف ہے۔

جناب نورستانی صاحب اور جناب نجم اللہ سلفی صاحب حفظہما اللہ کی طرف راقم الحروف نے اردو زبان میں ایک خط لکھا تھا جس کا جواب کافی عرصے کے بعد عربی زبان وغیرہ میں ملا۔

اس جواب کے ملتے ہی راقم الحروف نے اس کا اردو میں جواب لکھ کر جناب نورستانی صاحب، جناب نجم اللہ صاحب اور بذریعہ خط کتابت جناب ڈاکٹر شجاع اللہ صاحب (لاہوری) کی خدمت میں ارسال کر دیا تھا۔

بعد میں شیخ نورستانی صاحب کی کتاب ’’نعمۃ الأ ثاثۃ لتخصیص الإعتکاف بالمساجد الثلاثۃ‘‘ ملی جس میں میرے پہلے خط کو ٹوٹی پھوٹی عربی میں ترجمہ کر کے مع جواب شائع کر دیا اور میرا دوسرا (تازہ) خط اس کتاب سے غائب ہے۔

میں نے لکھا تھا:

’’بسم اللہ الرحمان الرحیم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، اما بعد:

جناب نورستانی صاحب اور جناب نجم اللہ صاحب کے نام!

آپ کا جواب ملا ہے، اس سلسلے میں چند معروضات پیشِ خدمت ہیں:

1- آپ اپنی مستدل سند میں امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کے سماع کی تصریح ثابت نہیں کر سکے ہیں اور نہ کوئی متابعت پیش کر سکے ہیں۔

2- امام ابن عیینہ رحمہ اللہ ثقہ مدلسین مثلاً امام ابن جریج رحمہ اللہ وغیرہ سے بھی تدلیس کرتے تھے لہٰذا ان کا عنعنہ مشکوک ہے۔ اس کا آپ دونوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

3- ابوبکر الہذلی کے سلسلے میں آپ نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ امام ابن عیینہ رحمہ اللہ نے امام زہری رحمہ اللہ کا قول الہذلی سے بھی سنا ہے اور امام زہری سے بھی۔ حالانکہ الجرح والتعدیل یا کسی کتاب سے یہ ثابت نہیں کہ انھوں نے خود یہ قول امام زہری سے سنا ہے۔

الہذلی کے قصہ میں درج ذیل باتیں مدنظر رکھیں:

1) سفیان نے محمد بن اسحاق کو زہری کے پاس دیکھا۔

2) ابن اسحاق نے زہری سے ان کے دربان کی شکایت کی۔

3) زہری نے دربان کو بلا کر سمجھایا۔

4) الہذلی نے زہری کا قول سفیان کو سنایا: ’’لا یزال بالمدینۃ علم…‘‘ إلخ

ان میں اول الذکر تین شقوں میں سفیان کا سماع ہے آخری شق میں نہیں، لہٰذا بعض راویوں کے اختصار سے آپ کا استدلال صحیح نہیں ہے۔

ابو قلابہ الرقاشی سے قطع نظر ’’اعلم بغزا‘‘ والی روایت اور ہے، لایزال بالمدینہ’’لایزال بالمدینہ‘‘ والی اور، اسے المزید فی متصل الاسانید سے سمجھنا صحیح نہیں ہے۔

آپ میرے سابق خط کے المشار الیہا صفحات کا دوبارہ مطالعہ کریں … … … … …

[ابو قلابہ عبدالملک بن محمد الرقاشی کے بارے میں راجح یہی ہے کہ وہ حسن الحدیث تھے کیونکہ جمہور محدثین نے ان کی توثیق کی ہے۔ روایتِ مذکورہ میں محمد بن جعفر بن یزید اور محمد بن ابراہیم المزنی کی توثیق مطلوب ہے۔]

امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کی تدلیس کے بارے میں چند مزید فوائد پیشِ خدمت ہیں:

1- ابو حاتم الرازی نے سفیان بن عیینہ عن ابن ابی عروبہ والی ایک روایت کے بارے میں فرمایا: اگر یہ (روایت) صحیح ہوتی تو ابن ابی عروبہ کی کتابوں میں ہوتی اور ابن عیینہ نے اس حدیث میں سماع کی تصریح نہیں کی اور یہ بات اسے ضعیف قرار دے رہی ہے۔ (علل الحدیث 1/ 32 ح 60، الفتح المبین ص 41)

2- ابن ترکمانی حنفی نے کہا: ’’ثم إن ابن عیینۃ مدلس وقد عنعن فی السند‘‘ پھر اس میں ابن عیینہ مدلس ہیں اور انھوں نے عن سے سند بیان کی ہے۔ (الجوہر النقی 2/ 138)

نیز دیکھئے المستدرک للحاکم (2/ 539 ح 3985)

4- جناب نجم اللہ صاحب کا امام ذہبی و علامہ البانی کی تقلید میں صحیحین پر طعن کرنا کہ ’’اور شروط سماع نہ ہوں تو بھی روایت مردود ہو گی‘‘ غلط ومردود ہے۔

صحیحین کو تلقی بالقبول حاصل ہے بلکہ ان کی صحت پر اجماع ہے۔ صرف یہی دلیل اس بات کے لئے کافی ہے کہ صحیحین میں مدلسین کی روایات سماع یا متابعت پر محمول ہیں۔

5- امام سفیان بن عیینہ کی معنعن روایت بلحاظِ سند ضعیف و بلحاظ متن منکر ہے لہٰذا اسے ’’صحیح عندي‘‘ کہنا غیر صحیح ہے۔

6- آپ دونوں حضرات سے درخواست ہے کہ اس ضعیف و معلول روایت کو لوگوں میں پھیلا کر اُمت میں فتنہ پیدا نہ کریں۔ وما علینا إلا البلاغ، زبیر علی زئی، 99۔10۔14‘‘

اس خط کا ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔

مختصر عرض ہے کہ سفیان بن عیینہ کی بیان کردہ روایت: ’’لَا اعْتِکَافَ إِلَّا فِی الْمَسَاجِدِ الثَّلَاثَۃِ‘‘ بلحاظ سند ضعیف ہے۔

اس میں اور بھی بہت سی علتیں ہیں۔ مثلاً اس کے متن میں اختلاف وتعارض ہے، موقوف و مرفوع ہونے میں بھی اختلاف ہے۔ اس اختلاف کی بنیاد وہ نامعلوم شخص ہے جس نے سفیان بن عیینہ کو یہ حدیث سنائی ہے۔ جمہور علماءِ اسلام کے بعض اعتراضات ’’نعمت الاثاثہ‘‘ نامی کتاب میں بھی موجود ہیں۔ فاضل مولف نے ان اعتراضات کے ناکام جوابات دینے کی کوشش کی ہے لیکن حق وہی ہے جو جمہور علماء اسلام نے قرآن مجید کی آیت کریمہ: وَاَنْتُمْ عَاکِفُوْنَ فِی الْمَسَاجِدِ سے سمجھا ہے۔

یہاں بطور نکتہ عرض ہے کہ ’’المساجد‘‘ کی تخصیص تین مساجد: (مسجد حرام، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ) کے ساتھ کرنا تاریخی طور پر بھی غلط ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسلمانوں کا مسجد اقصیٰ میں اعتکاف کرنا کسی دلیل سے ثابت نہیں ہے، بلکہ بیت المقدس (جہاں مسجد اقصیٰ موجود ہے) اس زمانے میں صلیبی پولسی عیسائیوں کے قبضہ میں تھا۔ اسے امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے 15ھ میں فتح کیا۔ (دیکھئے البدایہ والنہایہ ج 7 ص 56 وغیرہ)

لہٰذا اس آیت کریمہ کے شانِ نزول میں مسجد حرام، مسجد نبوی کے ساتھ وہ تمام مساجد شامل ہیں جو کہ عہد نبوی میں موجود تھیں۔ مساجد کا لفظ کم از کم تین (یا اس سے زیادہ) مسجدوں پر مشتمل ہے۔

شان نزول کے وقت مسجد اقصیٰ کے خروج سے یہ خود بخود ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کی تمام مساجد بشمول مساجد ثلاثہ میں اعتکاف میں بیٹھنا جائز ہے۔ [شہادت، جنوری 2000ء]

’’لا اعتکاف‘‘والی روایت ضعیف ہے:

سوال: اعتکاف کے سلسلے میں آپ کی تحقیق کیا ہے؟ (ایک سائل)

الجواب:

امام ابو حاتم رازی نے ’’لااعتکاف‘‘ والی روایت کے راوی امام سفیان بن عیینہ کی ایک حدیث کو اس وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے کہ اس میں سفیان مذکور نے سماع کی تصریح نہیں کی۔ (علل الحدیث ج 1 ص 32 ح 60 والمخطوطہ 18، وفوائد فی کتاب العلل بقلم المعلمی ص 29)

شیخ ناصر بن حمد الفہد نے لکھا ہے:

’’وھذا یفید أن ابن عیینۃ أحیانًا یدلس عن الضعفاء‘‘

اور یہ اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ ابن عیینہ بعض اوقات ضعیف راویوں سے تدلیس کرتے تھے۔

(منہج المتقد مین فی التدلیس ص 36)

سعودی عرب کے مشہور شیخ عبداللہ بن عبدالرحمن السعد حفظہ اللہ نے اس کتاب کی تقریظ لکھی ہے۔

ان دو تازہ حوالوں سے بھی یہی ثابت ہوا کہ ’’لَا اعْتِکَافَ إِلَّا فِی الْمَسَاجِدِ الثَّلَاثَۃِ‘‘ (تین مسجدوں کے سوا اعتکاف نہیں ہے) والی حدیث ضعیف ہے۔ [شہادت، جنوری 2003ء]

……………… اصل مضمون ………………

اصل مضمون کے لئے دیکھئے فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (جلد 2 صفحہ 147 تا 154) للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

ہماری موبائل ایپ انسٹال کریں۔ تحقیقی مضامین اور تحقیقی کتابوں کی موجودہ وقت میں ان شاء اللہ سب سے بہترین ایپ ہے، والحمدللہ۔

دیگر بلاگ پوسٹس:

  1. ایمان میں کمی بیشی کا مسئلہ
  2. حالتِ سجدہ میں ہاتھوں کی انگلیاں ملانا؟
  3. سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مقام
  4. قرآن و حدیث کو تمام آراء و فتاویٰ پر ہمیشہ ترجیح حاصل ہے
  5. قربانی کا گوشت اور غیر مسلم؟
  6. نابالغ قارئ قرآن کی امامت
  7. مسلمان کی جان بچانے کے لئے خون دینا
  8. قربانی کے جانور کی شرائط
  9. امام شافعی رحمہ اللہ ضعیف روایات کو حجت نہیں سمجھتے تھے
  10. امام نسائی رحمہ اللہ کی وفات کا قصہ
  11. فضائلِ اذکار
  12. سورة یٰسین کی فضیلت
  13. اللہ کے لئے خدا کا لفظ بالاجماع جائز ہے
  14. رفع یدین کے خلاف ایک نئی روایت — أخبار الفقہاء والمحدثین؟
  15. پانچ فرض نمازوں کی رکعتیں اور سنن و نوافل
  16. اذان اور اقامت کے مسائل
  17. نمازِ جمعہ رہ جانے کی صورت میں ظہر کی ادائیگی
  18. قرآن مجید کے سات قراءتوں پر نازل ہونے والی حدیث متواتر ہے
  19. ائمہ کرام سے اختلاف، دلائل کے ساتھ
  20. نمازِ عید کے بعد ’’تقبل اللہ منا و منک‘‘ کہنا
  21. تکبیراتِ عیدین کے الفاظ
  22. صحیح الاقوال فی استحباب صیام ستۃ من شوال
  23. تکبیراتِ عیدین میں رفع الیدین کا ثبوت
  24. تکبیراتِ عیدین
  25. عیدین میں 12 تکبیریں اور رفع یدین
  26. تمام مساجد میں اعتکاف جائز ہے
  27. حالتِ اعتکاف میں جائز اُمور
  28. روزہ اور اعتکاف کے اجماعی مسائل
  29. اعتکاف کے متعلق بعض آثارِ صحیحہ
  30. صدقہ فطر اجناس کے بجائے قیمت (نقدی) کی صورت میں دینا؟
  31. عشرکی ادائیگی اور کھاد، دوائی وغیرہ کا خرچ
  32. کئی سالوں کی بقیہ زکوٰۃ
  33. محدثین کے ابواب ’’پہلے اور بعد؟!‘‘
  34. نبی کریم ﷺ کی حدیث کا دفاع
  35. رمضان کے روزوں کی قضا اور تسلسل
  36. وحدت الوجود کے ایک پیروکار ’’حسین بن منصور الحلاج‘‘ کے بارے میں تحقیق
  37. ابن عربی صوفی کا رد
  38. روزے کی حالت میں ہانڈی وغیرہ سے چکھنا؟
  39. قیامِ رمضان مستحب ہے
  40. رمضان میں سرکش شیاطین کا باندھا جانا
  41. گیارہ رکعات قیامِ رمضان (تراویح) کا ثبوت اور دلائل
  42. اسناد دین میں سے ہیں (اور) اگر سند نہ ہوتی تو جس کے جو دل میں آتا کہتا
  43. کیا ’’شرح السنۃ‘‘ کا مطبوعہ نسخہ امام حسن بن علی البربہاری سے ثابت ہے؟
  44. کیا اللہ تعالیٰ ہر جگہ بذاتہ موجود ہے؟
  45. مسنون وضو کا طریقہ، صحیح احادیث کی روشنی میں
  46. پندرہ شعبان کی رات اور مخصوص عبادت
  47. دورانِ تلاوت سلام کرنا
  48. سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ
  49. حق کی طرف رجوع
  50. دعاء کے فضائل و مسائل
  51. سلف صالحین اور بعض مسائل میں اختلاف
  52. اہلِ حدیث سے مراد ’’محدثینِ کرام اور اُن کے عوام‘‘ دونوں ہیں
  53. نمازِ باجماعت کے لئے کس وقت کھڑے ہونا چاہیے؟
  54. دھوپ اور چھاؤں میں بیٹھنا
  55. أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
  56. کیا شلوار (چادر وغیرہ) ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
  57. خوشحال بابا
  58. نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے والی حدیث صحیح ہے
  59. کلمۂ طیبہ کا ثبوت
  60. قبر میں نبی کریم ﷺ کی حیات کا مسئلہ
  61. شریعتِ اسلامیہ میں شاتمِ رسول کی سزا
  62. سیدنا خضر علیہ السلام نبی تھے
  63. دعا میں چہرے پر ہاتھ پھیرنا بالکل صحیح ہے
  64. سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ کا واقعہ؟
  65. کیا امام شافعی امام ابو حنیفہ کی قبر پر گئے تھے؟
  66. دیوبندی حضرات اہلِ سنت نہیں ہیں
  67. اللہ کی نعمت کے آثار بندے پر ((إِذَا اَتَاکَ اللہ مالاً فَلْیُرَ علیک))
  68. ایک مشت سے زیادہ داڑھی کاٹنا؟
  69. امام مالک اور نماز میں فرض، سنت و نفل کا مسئلہ
  70. اللہ کی معیت و قربت سے کیا مراد ہے؟
  71. سلف صالحین کے بارے میں آلِ دیوبند کی گستاخیاں
  72. ’’ماں کی نافرمانی کی سزا دُنیا میں‘‘ … ایک من گھڑت روایت کی تحقیق
  73. عالَمِ خواب اور نیند میں نبی ﷺ کے دیدار کی تین صحیح روایات اور خواب دیکھنے والے ثقہ بلکہ فوق الثقہ تھے
  74. مسئلۃ استواء الرحمٰن علی العرش
  75. ورثاء کی موجودگی میں ایک تہائی مال کی وصیت جائز ہے
  76. موجودہ حالات صحیح حدیث کی روشنی میں
  77. دعوتِ حق کے لئے مناظرہ کرنا
  78. قیامت اچانک آئے گی جس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے
  79. حدیث کا منکر جنت سے محروم رہے گا
  80. یہ کیسا فضول تفقہ ہے جس کے بھروسے پر بعض لوگ اپنے آپ کو فقیہ سمجھ بیٹھے ہیں۔!!
  81. بغیر شرعی عذر کے بیٹھ کر نماز پڑھنا
  82. سیدنا معاویہ بن ابی سفیان کاتبِ وحی رضی اللہ عنہ کی فضیلت
  83. اللہ تعالیٰ سات آسمانوں سے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے
  84. فجر کی اذان میں الصلوٰۃ خیر من النوم کہنا حدیث سے ثابت ہے
  85. اے اللہ! میرے اور گناہوں کے درمیان پردہ حائل کر دے
  86. جمعہ کے دن مقبولیتِ دعا کا وقت؟
  87. نظر بد سے بچاؤ کے لئے دھاگے اور منکے وغیرہ لٹکانا؟
  88. ایک دوسرے کو سلام کہنا
  89. سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے محبت
  90. صحابۂ کرام کے بعد کسی اُمتی کا خواب حجت نہیں ہے
  91. امام ابو بکر عبداللہ بن ابی داود رحمہ اللہ کے اشعار
  92. قمیص میں بند گلا ہو یا کالر، دونوں طرح جائز ہے
  93. امام ابوبکر بن ابی داود السجستانی رحمہ اللہ کا عظیم الشان حافظہ
  94. سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور ایک عورت کے بھوکے بچوں کا قصہ
  95. نبی کریم ﷺ کا اپنے اُمتیوں سے پیار
  96. یہ نہیں کرنا کہ اپنی مرضی کی روایت کو صحیح و ثابت کہہ دیں اور دوسری جگہ اسی کو ضعیف کہتے پھریں۔ یہ کام تو آلِ تقلید کا ہے!
  97. رفع الیدین کی مرفوع و صحیح احادیث کے مقابلے میں ضعیف و غیر ثابت آثار
  98. نبی ﷺ کی سنت یعنی حدیث کے مقابلے میں کسی کی تقلید جائز نہیں ہے
  99. تجھے تو اچھی طرح سے نماز پڑھنی ہی نہیں آتی!
  100. سیدنا ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ
  101. کیا کتوں کا بیچنا جائز ہے؟
  102. اہلِ حدیث کے نزدیک قرآن و حدیث اور اجماع کے صریح مخالف ہر قول مردود ہے خواہ اسے بیان کرنے یا لکھنے والا کتنا ہی عظیم المرتبت کیوں نہ ہو
  103. نمازی کے آگے سترہ رکھنا واجب ہے یا سنت؟
  104. رسول اللہ ﷺ کی حدیث کا احترام
  105. محرم کے بعض مسائل
  106. جنات کا وجود ایک حقیقت ہے
  107. سلف صالحین اور علمائے اہلِ سنت
  108. نبی کریم ﷺ پر جھوٹ بولنے والا جہنم میں جائے گا
  109. بے سند اقوال سے استدلال غلط ہے
  110. قربانی کے چار یا تین دن؟
  111. حالتِ نماز میں قرآن مجید دیکھ کر تلاوت کرنا
  112. قربانی کے بعض احکام و مسائل - دوسری قسط
  113. پوری اُمت کبھی بالاجماع شرک نہیں کرے گی
  114. قادیانیوں اور فرقۂ مسعودیہ میں 20 مشترکہ عقائد
  115. قربانی کے احکام و مسائل با دلائل
  116. مکمل نمازِ نبوی ﷺ - صحیح احادیث کی روشنی میں
  117. نبی کریم ﷺ نے سیدنا جُلَیبِیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ’’ھذا مني وأنا منہ‘‘
  118. کلید التحقیق: فضائلِ ابی حنیفہ کی بعض کتابوں پر تحقیقی نظر
  119. گھروں میں مجسمے رکھنا یا تصاویر لٹکانا یا تصاویر والے کپڑے پہننا
  120. اگر کسی شخص کا بیٹا فوت ہو جائے تو بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے پوتوں پوتیوں کے بارے میں وصیت لکھ دے
  121. اتباعِ سنت ہی میں نجات ہے
  122. رسول اللہ ﷺ اور بعض غیب کی اطلاع
  123. خطبۂ جمعہ کے چالیس مسائل
  124. خطبۂ جمعہ کے دوران کوئی یہ کہے کہ ’’چپ کر‘‘ تو ایسا کہنے والے نے بھی لغو یعنی باطل کام کیا
  125. عید کے بعض مسائل
  126. روزہ افطار کرنے کے بارے میں مُسَوِّفین (دیر سے روزہ افطار کرنے والوں) میں سے نہ ہونا
  127. اُصولِ حدیث اور مدلس کی عن والی روایت کا حکم
  128. رمضان کے آخری عشرے میں ہر طاق رات میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو
  129. جنازہ گزرنے پر کھڑا ہونے والا حکم منسوخ ہے
  130. اللہ تعالیٰ کا احسان اور امام اسحاق بن راہویہ کا حافظہ
  131. اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کریں
  132. دُور کی رُویت کا کوئی اعتبار نہیں ہے (رمضان المبارک کے بعض مسائل)
  133. شریعت میں باطنیت کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ ظاہر کا اعتبار ہے
  134. کیا قے (یعنی اُلٹی) آنے سے روزے کی قضا ہے؟
  135. طارق جمیل صاحب کی بیان کردہ روایتوں کی تحقیق
  136. اطلبوا العلم ولو بالصین - تم علم حاصل کرو، اگرچہ وہ چین میں ہو
  137. مونچھوں کے احکام و مسائل
  138. ضعیف روایات اور اُن کا حکم
  139. نماز باجماعت کا حکم
  140. چالیس حدیثیں یاد کرنے والی روایت
  141. نظر کا لگ جانا برحق ہے
  142. کتاب سے استفادے کے اصول
  143. حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی امام بخاری رحمہ اللہ تک سند
  144. سیرت رحمۃ للعالمین ﷺ کے چند پہلو
  145. شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
  146. چند فقہی اصطلاحات کا تعارف
  147. جو آدمی کوئی چیز لٹکائے گا وہ اسی کے سپرد کیا جائے گا
  148. کلامی لا ینسخ کلام اللہ – والی روایت موضوع ہے
  149. گانے بجانے اور فحاشی کی حرمت
  150. نفل نمازوں کے فضائل و مسائل
  151. مساجد میں عورتوں کی نماز کے دس دلائل
  152. ایک صحیح العقیدہ یعنی اہل حدیث بادشاہ کا عظیم الشان قصہ
  153. نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک احادیث صحیحہ سے بطورخلاصہ پیش خدمت ہے
  154. نبی کریم ﷺ کے معجزے
  155. سجدے کی حالت میں ایڑیوں کا ملانا آپ ﷺ سے باسند صحیح ثابت ہے
  156. باجماعت نماز میں صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز
  157. نمازِ تسبیح / صلوٰۃ التسبیح
  158. کیا ملک الموت علیہ السلام کا نام یعنی ’’عزرائیل‘‘ قرآن یا حدیث سے ثابت ہے؟
  159. ختمِ نبوت پر چالیس (40) دلائل
  160. چالیس (40) مسائل جو صراحتاً صرف اجماع سے ثابت ہیں
  161. وعظ و نصیحت اور دعوت و تبلیغ کے بارے میں سنہری ہدایات
  162. جہنم سانس باہر نکالتی ہے تو گرمی زیادہ ہو جاتی ہے
  163. سب اہلِ ایمان بھائی بھائی ہیں
  164. اللہ پر ایمان اور ثابت قدمی
  165. ماہِ صفر کے بعض مسائل
  166. محمد رسول اللہ ﷺ کا سایہ مبارک
  167. ابو الطفیل عامر بن واثلہ، صحابہ کرام میں وفات پانے والے آخری صحابی تھے
IshaatulHadith Hazro © 2020 (websites) - contact us