Sunan ibn Majah Hadith 1081 (سنن ابن ماجہ)
[1081] إسنادہ ضعیف جدًا
عبد اللہ بن محمد العدوي: متروک رماہ وکیع بالوضع،و الولیدبن بکیر: لین الحدیث (تقریب: 3601،7417) وعلي بن زید ضعیف
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ بُكَيْرٍ أَبُو جَنَّابٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَدَوِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ فَقَالَ يَا أَيُّہَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَی اللہِ قَبْلَ أَنْ تَمُوتُوا وَبَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ قَبْلَ أَنْ تُشْغَلُوا وَصِلُوا الَّذِي بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ بِكَثْرَةِ ذِكْرِكُمْ لَہُ وَكَثْرَةِ الصَّدَقَةِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ تُرْزَقُوا وَتُنْصَرُوا وَتُجْبَرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ اللہَ قَدْ افْتَرَضَ عَلَيْكُمْ الْجُمُعَةَ فِي مَقَامِي ہَذَا فِي يَوْمِي ہَذَا فِي شَہْرِي ہَذَا مِنْ عَامِي ہَذَا إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَمَنْ تَرَكَہَا فِي حَيَاتِي أَوْ بَعْدِي وَلَہُ إِمَامٌ عَادِلٌ أَوْ جَائِرٌ اسْتِخْفَافًا بِہَا أَوْ جُحُودًا لَہَا فَلَا جَمَعَ اللہُ لَہُ شَمْلَہُ وَلَا بَارَكَ لَہُ فِي أَمْرِہِ أَلَا وَلَا صَلَاةَ لَہُ وَلَا زَكَاةَ لَہُ وَلَا حَجَّ لَہُ وَلَا صَوْمَ لَہُ وَلَا بِرَّ لَہُ حَتَّی يَتُوبَ فَمَنْ تَابَ تَابَ اللہُ عَلَيْہِ أَلَا لَا تَؤُمَّنَّ امْرَأَةٌ رَجُلًا وَلَا يَؤُمَّ أَعْرَابِيٌّ مُہَاجِرًا وَلَا يَؤُمَّ فَاجِرٌ مُؤْمِنًا إِلَّا أَنْ يَقْہَرَہُ بِسُلْطَانٍ يَخَافُ سَيْفَہُ وَسَوْطَہُ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا تو ارشاد فرمایا: ’’لوگو! مرنے سے پہلے پہلے اللہ کے سامنے توبہ کر لو،مشغول ہوجانے سے پہلے جلدی جلدی نیک اعمال کر لو،اللہ کا بکثرت ذکر کر کے اور خفیہ و ظاہر صدقات کثرت سے ادا کر کے اپنے رب سے اپنا تعلق استوار کر لو،(اس کے نتیجہ میں) تمہیں رزق ملے گا۔تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہارا حال ٹھیک ہو جائےگا۔جان لو اس سال کے اس مہینہ میں آج کے دن اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے تم پر قیامت تک کے لئے جمعہ فرض کر دیا ہے۔جو شخص عادل یا ظالم حکمران کی موجودگی میں میری زندگی میں یا میری وفات کے بعد جعمے کی نماز کو غیر اہم سمجھتے ہوئے یا اس (کی فرضیت) کا انکار کرتے ہوئے جمعے کو ترک کرے گا(میں اسے بددعا دیتا ہوں کہ) اللہ کرے! اس کے بکھرے ہوئے کام نہ سمٹیں اور اس کے کاموں میں برکت نہ ہو،سنو! اس شخص کی(جو بلاعذت جمعہ ترک کرے) کوئی نماز نہیں اس کی کوئی زکاۃ نہیں اس کا کوئی حج نہیں اس کا کوئی روزہ نہیں۔(یہ اعمال قبول نہیں ہوں گے،اس کی کوئی نیکی(قبول) نہیں حتی کہ توبہ کر لے جو کوئی توبہ کر لے اللہ اس کی توبہ قبول فرمالے گا۔خبردار! کوئی عورت کسی مرد کی امامت نہ کرے،کوئی خانہ بدوش کسی مہاجر کا امام نہ بنے،کوئی فاسق کسی (نیک) مومن کا امام نہ بنے،سوائے اس کے کہ وہ اسے قوت و غلبہ سے مجبور کر دے اور اسے اس کی تلاور اور کوڑے کا خوف ہو۔‘‘