Sunan ibn Majah Hadith 1135 (سنن ابن ماجہ)
[1135]صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَی الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ مَا كَانَ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ إِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ إِذَا خَرَجَ أَذَّنَ وَإِذَا نَزَلَ أَقَامَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ كَذَلِكَ فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ وَكَثُرَ النَّاسُ زَادَ النِّدَاءَ الثَّالِثَ عَلَی دَارٍ فِي السُّوقِ يُقَالُ لَہَا الزَّوْرَاءُ فَإِذَا خَرَجَ أَذَّنَ وَإِذَا نَزَلَ أَقَامَ
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کا تو ایک ہی مؤذن تھا،جب رسول اللہ ﷺ (خطبہ دینے کے لئے گھر سے) باہر تشریف لاتے (اور منبر پر تشریف رکھتے) تو وہ آذان کہتا اور جب (خطبے سے فارغ ہو کر) منبر سے اترتے تو وہ اقامت کہہ دیتا۔سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کا معمول بھی یہی تھا۔پھر جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور (نماز کے لئے آنے والے) لوتگوں کی کثرت ہو گئی تو انہوں نے بازار میں ایک گھر (کی چھت) پر تیسری اذان مزید کہلوائی۔اس جگہ کا نام زَوْرَاء تھا(جہاں مؤذن یہ اذان کہتا تھا) جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (خطبے کے لئے) تشریف لاتے تو وہ اذان کہتا اور جب (منبر سے) نیچے اترتے تو وہ اقامت کہتا۔