Sunan ibn Majah Hadith 1200 (سنن ابن ماجہ)
[1200]بخاری ومسلم
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِيٍّ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَتَخَلَّفْتُ فَأَوْتَرْتُ فَقَالَ مَا خَلَفَكَ قُلْتُ أَوْتَرْتُ فَقَالَ أَمَا لَكَ فِي رَسُولِ اللہِ ﷺ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ قُلْتُ بَلَی قَالَ فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ يُوتِرُ عَلَی بَعِيرِہِ
سیدنا سعید بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ (سفر میں) تھا،میں(راستے میں رک گیا اور) ان سے پیچھے رہ گیا اور(سوار سے اتر کر) وتر پڑھ لیے۔(جب دوبارہ ان سے جا ملا) تو انہوں نے پوچھا: تم پیچھے کیوں رہ گئے تھے؟ میں نے عرض کیا: میں نے وتر پڑھے ہیں۔فرمایا: کیا تمہارے لئے اللہ کے رسلو ﷺ میں اچھا نمونہ نہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔فرمایا: رسول اللہ ﷺ اپنے اونٹ ہی پر وتر پڑھ لیا کرتےتھے۔