Sunan ibn Majah Hadith 1503 (سنن ابن ماجہ)

[1503] إسنادہ ضعیف

إبراہیم بن مسلم الھجري لین الحدیث رفع موقوفات (تقریب: 2520) لین الحدیث: أي ضعیف وأخرج البیھقي (4/ 35) بإسناد قوي عن أبي یعفور وقدان عن ابن أبي أوفی بہ نحوہ مختصرًا وھو الصحیح

انوار الصحیفہ ص 432

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْہَجَرِيُّ،قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي أَوْفَی الْأَسْلَمِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ عَلَی جِنَازَةِ ابْنَةٍ لَہُ،فَكَبَّرَ عَلَيْہَا أَرْبَعًا،فَمَكَثَ بَعْدَ الرَّابِعَةِ شَيْئًا،قَالَ: فَسَمِعْتُ الْقَوْمَ يُسَبِّحُونَ بِہِ،مِنْ نَوَاحِي الصُّفُوفِ،فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: أَكُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنِّي مُكَبِّرٌ خَمْسًا؟ قَالُوا: تَخَوَّفْنَا ذَلِكَ،قَالَ: لَمْ أَكُنْ لِأَفْعَلَ،وَلَكِنْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ ((كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا،ثُمَّ يَمْكُثُ سَاعَةً،فَيَقُولُ مَا شَاءَ اللہُ أَنْ يَقُولَ،ثُمَّ يُسَلِّمُ))

ابو بکر ابراہیم بن مسلم ہجری رحمہ اللہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابی عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں ان کی ایک بیٹی کا جنازہ پڑھا۔انہوں نے اس کے جنازے میں چار تکبیریں کہیں۔چوتھی تکبیر کے بعد وہ کچھ عرصہ ٹھہرے۔فرماتے ہیں: میں نے صفوں کے اطراف سے لوگوں کو سبحان اللہ کہتے سنا۔انہوں نے سلام پھیر کر کہا: کیا تمہارا خیال تھا کہ پانچ تکبیریں کہہ دوں گا؟ حاضرین نے کہا: ہمیں تو یہی خطرہ محسوس ہوا تھا۔انہوں نے فرمایا: میں تو ایسے نہیں کرنے لگا تھا لیکن رسول اللہ ﷺ چار تکبیریں کہہ کر تھوڑی دیر ٹھہرتے تھے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ چاہتا وہ کہتے(مناسب دعا پڑھتے،) پھر سلام پھیرتے تھے۔