Sunan ibn Majah Hadith 1614 (سنن ابن ماجہ)

[1614]إسنادہ حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْمَعَافِرِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ وُلِدَ بِالْمَدِينَةِ فَصَلَّی عَلَيْہِ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ يَا لَيْتَہُ مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِہِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ النَّاسِ وَلِمَ يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِہِ قِيسَ لَہُ مِنْ مَوْلِدِہِ إِلَی مُنْقَطَعِ أَثَرِہِ فِي الْجَنَّةِ

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: مدینہ میں ایک آدمی فوت ہوگیا،اس کی ولادت بھی مدینہ میں ہوئی تھی۔نبی ﷺ نے اس کا جنازہ پڑھایا اور فرمایا: ’’کاش! وہ اپنے مقام پیدائش کے سوا(کسی اور مقام پر) فوت ہوتا۔‘‘حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: اے اللہ کے رسول! (آپ یہ تمنا) کیوں (کر رہے ہیں؟) آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جب آدمی اپنی پیدائش کی جگہ کے علاوہ کسی اور مقام پر فوت ہوتا ہے تو اس کے لئے مقام پیدائش سے مقام وفات تک پیدائش کر کے(اس کے برابر جگہ) جنت میں دی جاتی ہے۔‘‘