Sunan ibn Majah Hadith 1637 (سنن ابن ماجہ)
[1637] إسنادہ ضعیف
قال البخاري: ’’زید بن أیمن عن عبادۃ بن نسي مرسل‘‘ (التاریخ الکبیر 387/2)
قال معاذ علي زئي: وفیہ علۃ أخری: قال ابن عبد الہادی: ’’فإن عبادۃ بن نسي لم یدرک أبا الدرداء‘‘ (الصارم المنکی ص 601) وقال البوصیری: ’’عبادة بن نسي روايتہ عن أبي الدرداء مرسلة قال العلاء‘‘ (مصباح الزجاجہ: 602)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ وَہْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي ہِلَالٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَيْمَنَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَكْثِرُوا الصَّلَاةَ عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَإِنَّہُ مَشْہُودٌ تَشْہَدُہُ الْمَلَائِكَةُ وَإِنَّ أَحَدًا لَنْ يُصَلِّيَ عَلَيَّ إِلَّا عُرِضَتْ عَلَيَّ صَلَاتُہُ حَتَّی يَفْرُغَ مِنْہَا قَالَ قُلْتُ وَبَعْدَ الْمَوْتِ قَالَ وَبَعْدَ الْمَوْتِ إِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ فَنَبِيُّ اللہِ حَيٌّ يُرْزَقُ
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جمعے کے دن مجھ پر درود زیادہ پڑھا کرو،اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور جو شخص بھی مجھ پر درود پڑھ گا تو اس کے فارغ ہونے تک اس کا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا رہے گا۔‘‘ میں نے عرض کیا: اور وفات کے بعد؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اور وفات کے بعدبھی(ایسے ہی ہوگا) اللہ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ نبیوں کے جسموں کو کھائے،چنانچہ اللہ کا نبی زندہ ہوتا ہے،اسے رزق ملتا ہے۔‘‘