Sunan ibn Majah Hadith 1798 (سنن ابن ماجہ)
[1798]حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ شِہَابٍ،عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللہِ،عَنْ أَبِيہِ،عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،قَالَ: أَقْرَأَنِي سَالِمٌ كِتَابًا كَتَبَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَاتِ قَبْلَ أَنْ يَتَوَفَّاہُ اللہُ،فَوَجَدْتُ فِيہِ: ((فِي خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ شَاةٌ،وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ،وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاہٍ،وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاہٍ،وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَی خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ،فَإِنْ لَمْ تُوجَدْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ،فَإِنْ زَادَتْ عَلَی خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ وَاحِدَةً،فَفِيہَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَی خَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ،فَإِنْ زَادَتْ عَلَی خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ وَاحِدَةً،فَفِيہَا حِقَّةٌ إِلَی سِتِّينَ،فَإِنْ زَادَتْ عَلَی سِتِّينَ وَاحِدَةً،فَفِيہَا جَذَعَةٌ إِلَی خَمْسٍ وَسَبْعِينَ،فَإِنْ زَادَتْ عَلَی خَمْسٍ وَسَبْعِينَ وَاحِدَةً،فَفِيہَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَی تِسْعِينَ،فَإِنْ زَادَتْ عَلَی تِسْعِينَ وَاحِدَةً فَفِيہَا حِقَّتَانِ إِلَی عِشْرِينَ وَمِائَةٍ،فَإِذَا كَثُرَتْ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ،وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ))
امام ابن شہاب زہری نے سالم بن عبداللہ اور ان کے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) کے واسطے سے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: مجھے حضرت سالم رحمۃ اللہ علیہ نے وہ تحریر پڑھوائی جو رسول اللہ ﷺ نے زکاۃ کے بارے میں وفات سے پہلے لکھوائی تھی۔میں نے اس میں یہ باتیں (لکھی ہوئی) پائیں: پانچ اونٹوں پر ایک بکری (زکاۃ) ہے،دس اونٹوں پر دو بکریاں،پندرہ اونٹوں پر تین بکریاں،بیس اونٹوں پر چار بکریاں،پچیس سے پینتیس پر ایک سال کی ایک اونٹنی ہے۔اگر ایک سالہ اونٹنی نہ ملے تو دو سالہ مذکر اونٹ ہے۔اگر پینتیس سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہو تو ان پر دو سالہ اونٹنی ہے۔پینتالیس تک (یہی زکاۃ ہے۔) اگر پنتالیس سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہو تو (چھیالیس سے) ساٹھ تک تین سالہ اونٹنی ہے۔اگر (گلے کی تعداد) ساٹھ سے ایک زیادہ ہو تو پچھتر تک چار سالہ اونٹنی ہے۔اگر پچھتر سے ایک بھی زائد ہو تو نوے دن تک ان میں دو سالہ دو اونٹنیاں زکاۃ ہے۔اگر نوے سے ایک بھی زیادہ ہو تو ایک سو بیس تک تین تین سال کی دو اونٹنیاں ہیں۔اگر (اونٹ) اس سے زیادہ ہوں تو ہر پچاس میں تین سالہ اونٹنی اور ہر چالیس میں دو سالہ اونٹنی ہے۔