Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 1898 (سنن ابن ماجہ)

[1898]بخاری ومسلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ،عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ عَائِشَةَ،قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو بَكْرٍ،وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِي الْأَنْصَارِ تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتْ بِہِ الْأَنْصَارُ فِي يَوْمِ بُعَاثٍ،قَالَتْ: وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ،فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبِمَزْمُورِ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ؟ وَذَلِكَ فِي يَوْمِ عِيدِ الْفِطْرِ،فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((يَا أَبَا بَكْرٍ،إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا،وَہَذَا عِيدُنَا))

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائے تو میرے پاس انصار کی دو لڑکیاں،وہ شعر ترنم سے پڑھ رہی تھیں جو انصاریوں نے جنگ بعاث کے موقع پر ایک دوسرے کے خلاف کہے تھے۔وہ (پیشہ ور) گانے والیاں نہیں تھیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (یہ حال دیکھ کر) فرمایا: نبی ﷺ کے گھر میں شیطانی راگ کا کیا کام؟ یہ عیدالفطر کا دن تھا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ابوبکر! ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے،اور آج ہماری عید ہے۔