Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 1947 (سنن ابن ماجہ)

[1947]صحیح

صحیح مسلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ لَہِيعَةَ،عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ،وَعُقَيْلٍ،عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ زَمْعَةَ،عَنْ أُمِّہِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ،أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ،أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ كُلَّہُنَّ خَالَفْنَ عَائِشَةَ،وَأَبَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْہِنَّ أَحَدٌ بِمِثْلِ رَضَاعَةِ سَالِمٍ،مَوْلَی أَبِي حُذَيْفَةَ،وَقُلْنَ: وَمَا يُدْرِينَا؟ لَعَلَّ ذَلِكَ كَانَتْ رُخْصَةً لِسَالِمٍ وَحْدَہُ

حضرت زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ کی تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اختلاف کیا،انہوں نے حضرت ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالم رضی اللہ عنہ کی سی رضاعت کی بنا پر کسی کو اپنے پاس آنے کی اجازت نہیں دی۔(ایسے افراد سے پردہ کیا) اور فرمایا: کیا معلوم شاید یہ اجازت صرف حضرت سالم رضی اللہ عنہ کے لیے مخصوص ہو۔