Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 1948 (سنن ابن ماجہ)

[1948]صحیح

صحیح مسلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،عَنِ الزُّہْرِيِّ،عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ عَائِشَةَ،قَالَتْ: أَتَانِي عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَفْلَحُ بْنُ أَبِي قُعَيْسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ بَعْدَ مَا ضُرِبَ الْحِجَابُ،فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَہُ،حَتَّی دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقَالَ: ((إِنَّہُ عَمُّكِ،فَأْذَنِي لَہُ))،فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ،وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ،قَالَ: ((تَرِبَتْ يَدَاكِ،أَوْ يَمِينُكِ))

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: میرے رضاعی چچا حضرت افلح بن ابو قعیس رضی اللہ عنہ نے آ کر مجھ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی،اس وقت پردے کا حکم نازل ہو چکا تھا۔چنانچہ میں نے اجازت دینے سے انکار کر دیا حتی کہ نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے۔(میں نے واقعہ عرض کیا) تو نبی ﷺ نے فرمایا: وہ تیرے چچا ہیں،انہیں اجازت دو۔میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے،مرد نے تو نہیں پلایا۔آپ ﷺ نے فرمایا: تیرے ہاتھ کو مٹی لگے۔یا تیرے دائٰیں ہاتھ کو مٹی لگے۔