Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 2038 (سنن ابن ماجہ)

[2038] إسنادہ ضعیف

ابن جریج عنعن

وعمرو بن أبي سلمۃ یروي بواطیل عن زہیر بن محمد

انوار الصحیفہ ص 452

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ أَبُو حَفْصٍ التَّنِّيسِيُّ،عَنْ زُہَيْرٍ،عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ،عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ،عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،قَالَ: ((إِذَا ادَّعَتِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ زَوْجِہَا،فَجَاءَتْ عَلَی ذَلِكَ بِشَاہِدٍ عَدْلٍ،اسْتُحْلِفَ زَوْجُہَا،فَإِنْ حَلَفَ بَطَلَتْ شَہَادَةُ الشَّاہِدِ،وَإِنْ نَكَلَ،فَنُكُولُہُ بِمَنْزِلَةِ شَاہِدٍ آخَرَ،وَجَازَ طَلَاقُہُ))

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی ﷺ نے فرمایا: جب عورت خاوند سے طلاق مل جانے کا دعویٰ کرے اور ایک قابل اعتماد گواہ پیش کر دے تو اس کے خاوند سے قسم اٹھانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔اگر اس نے قسم کھا لی (کہ میں نے طلاق نہیں دی) تو گواہ کی گواہی کالعدم ہو جائے گی۔اور اگر اس نے قسم سے انکار کیا تو اس کا انکار دوسرے گواہ کے قائم مقام ہو جائے گا اور اس کی طلاق نافذ کر دی جائے گی۔