Sunan ibn Majah Hadith 2148 (سنن ابن ماجہ)
[2148] إسنادہ ضعیف
الزبیر بن عبید: مجہول (تقریب: 1999) و فی السند علل أخری،انظر أضواء المصابیح (2785)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي،عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عُبَيْدٍ،عَنْ نَافِعٍ،قَالَ: كُنْتُ أُجَہِّزُ إِلَی الشَّامِ وَإِلَی مِصْرَ،فَجَہَّزْتُ إِلَی الْعِرَاقِ،فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ،فَقُلْتُ لَہَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كُنْتُ أُجَہِّزُ إِلَی الشَّامِ،فَجَہَّزْتُ إِلَی الْعِرَاقِ،فَقَالَتْ: لَا تَفْعَلْ،مَا لَكَ وَلِمَتْجَرِكَ؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،يَقُولُ: ((إِذَا سَبَّبَ اللہُ لِأَحَدِكُمْ رِزْقًا مِنْ وَجْہٍ،فَلَا يَدَعْہُ حَتَّی يَتَغَيَّرَ لَہُ،أَوْ يَتَنَكَّرَ لَہُ))
حضرت نافع رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: میں شام اور مصر کی طرف سامان تجارت بھیجا کرتا تھا،(ایک بار) میں نے عراق کی طرف سامان بھیج دیا،پھر میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: ام المومنین! میں شام کی طرف سامان بھیجا کرتا تھا۔اب میں نے عراق کی طرف سامان بھیجا ہے۔انہوں نے فرمایا: ایسا نہ کرو،تمہارے (سابقہ) مقام تجارت کو کیا ہو گیا؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ ارشاد مبارک سنا ہے: جب اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کے لیے ایک طرف سے رزق کا سبب پیدا کرے تو وہ اسے اس وقت تک ترک نہ کرے جب تک اس میں تغیر یا خرابی پیدا نہ ہو جائے۔