Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 2157 (سنن ابن ماجہ)

[2157]إسنادہ حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ،وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ،قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ الْمَوْصِلِيُّ،عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ،عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ،عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ،قَالَ: عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَہْلِ الصُّفَّةِ الْقُرْآنَ وَالْكِتَابَةَ،فَأَہْدَی إِلَيَّ رَجُلٌ مِنْہُمْ قَوْسًا،فَقُلْتُ: لَيْسَتْ بِمَالٍ،وَأَرْمِي عَنْہَا فِي سَبِيلِ اللہِ،فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ عَنْہَا،فَقَالَ: ((إِنْ سَرَّكَ أَنْ تُطَوَّقَ بِہَا طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْہَا))

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: میں نے اصحاب صفہ (رضی اللہ عنھم) میں سے چند افراد کو قرآن کی اور لکھنے کی تعلیم دی۔ان میں سے ایک آدمی نے تھفے کے طور پر مجھے ایک کمان دے دی۔میں نے یہ سوچ کر لے لی کہ یہ کوئی مال تو ہے نہیں،اور میں اللہ کی راہ میں (جہاد کرتے ہوئے) اس سے تیر چلاؤں گا۔میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: اگر تجھے یہ بات پسند ہے کہ اس کے بدلے تجھے (جہنم کی) آگ کا طوق پہنایا جائے تو قبول کر لے۔