Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 2198 (سنن ابن ماجہ)

[2198]إسنادہ حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَخْضَرُ بْنُ عَجْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ،جَاءَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُہُ،فَقَالَ: لَكَ فِي بَيْتِكَ شَيْءٌ؟ قَالَ: بَلَی،حِلْسٌ نَلْبَسُ بَعْضَہُ،وَنَبْسُطُ بَعْضَہُ،وَقَدَحٌ نَشْرَبُ فِيہِ الْمَاءَ،قَالَ: ((ائْتِنِي بِہِمَا))،قَالَ: فَأَتَاہُ بِہِمَا،فَأَخَذَہُمَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ بِيَدِہِ،ثُمَّ قَالَ: ((مَنْ يَشْتَرِي ہَذَيْنِ؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُہُمَا بِدِرْہَمٍ،قَالَ: ((مَنْ يَزِيدُ عَلَی دِرْہَمٍ؟)) مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا،قَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُہُمَا بِدِرْہَمَيْنِ،فَأَعْطَاہُمَا إِيَّاہُ وَأَخَذَ الدِّرْہَمَيْنِ،فَأَعْطَاہُمَا الْأَنْصَارِيَّ،وَقَالَ: ((اشْتَرِ بِأَحَدِہِمَا طَعَامًا فَانْبِذْہُ إِلَی أَہْلِكَ،وَاشْتَرِ بِالْآخَرِ قَدُومًا،فَأْتِنِي بِہِ))،فَفَعَلَ،فَأَخَذَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَشَدَّ فِيہِ عُودًا بِيَدِہِ،وَقَالَ: ((اذْہَبْ فَاحْتَطِبْ وَلَا أَرَاكَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا))،فَجَعَلَ يَحْتَطِبُ وَيَبِيعُ،فَجَاءَ وَقَدْ أَصَابَ عَشَرَةَ دَرَاہِمَ،فَقَالَ: ((اشْتَرِ بِبَعْضِہَا طَعَامًا وَبِبَعْضِہَا ثَوْبًا))،ثُمَّ قَالَ: ((ہَذَا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَجِيءَ وَالْمَسْأَلَةُ نُكْتَةٌ فِي وَجْہِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ،إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَصْلُحُ إِلَّا لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ،أَوْ لِذِي غُرْمٍ مُفْظِعٍ،أَوْ دَمٍ مُوجِعٍ))

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر (مالی تعاون کا) سوال کیا۔آپ ﷺ نے فرامای: کیا تمہارے گھر میں تمہاری کوئی چیز موجود ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! ایک کمبل ہے۔ہم آدھا نیچے بچھاتے ہیں اور آدھا اوڑھ لیتے ہیں اور ایک پیالہ ہے جس میں پانی پیتے ہیں۔آپ نے فرمایا: دونوں چیزین میرے پاس لے آؤ۔وہ انہیں لے کر حاضر ہوا تو اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا: یہ دونوں چیزیں کون خریدتا ہے؟ ایک آدمی نے کہا: میں انہیں ایک درہم میں خریدتا ہوں۔آپ نے دو تین بار فرمایا: ایک درہم سے زیادہ کون دیتا ہے؟ ایک آدمی نے کہا: میں انہیں دو درہم میں خریدتا ہوں۔آپ نے اسے دونوں چیزین دے کر دو درہم لے لیے اور اس انصاری صھابی کو دے دیے،اور فرمایا: ایک درہم کا کھانے پینے کا سامان لے کر گھر والوں کو دے دو اور دوسرے درہم کا کلہاڑا خرید کر میرے پاس لاؤ۔اس نے ایسے ہی کیا۔رسول اللہ ﷺ نے کلہاڑا لے کر اس میں اپنے ہاتھ سے دستہ لگایا اور فرمایا: جاؤ (جنگل سے) ایندھن کی لکڑیاں لایا کرو (اور بیچ کر ضروریات پوری کرو) اور پندرہ دن تک میں تمہیں نہ دیکھوں۔وہ ایندھن لا کر بیچنے لگا۔(اس کے بعد) وہ حاضر ہوا تو اس کے پاس دس درہم (جمع ہو چکے) تھے۔آپ نے فرمایا: کچھ رقم کا کھانے کا سامان خرید لو اور کچھ رقم کا کپڑا خرید لو۔پھر فرمایا: یہ کام (محنت سے روزی کمانا) تیرے لیے اس بات سے بہت بہتر ہے کہ تووو قیامت کے دن آئے تو مانگنے کی وجہ سے تیرا چہرہ داغ دار ہو۔مانگنا صرف اس کے لیے جائز ہے جسے مفلسی خاک نشین کر دے،یا جو انتہائی مقروض ہو،یا جو خون کی وجہ سے پریشان ہو۔(جس سے قتل سرزد ہو گیا ہو اور وہ دیت ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو)۔