Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 2200 (سنن ابن ماجہ)

[2200]إسنادہ صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ،عَنْ قَتَادَةَ،وَحُمَيْدٌ،وَثَابِتٌ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،قَالَ: غَلَا السِّعْرُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ قَدْ غَلَا السِّعْرُ فَسَعِّرْ لَنَا،فَقَالَ: ((إِنَّ اللہَ ہُوَ الْمُسَعِّرُ،الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ،إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَی رَبِّي وَلَيْسَ أَحَدٌ يَطْلُبُنِي بِمَظْلِمَةٍ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ))

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں (ایک بار اشیاء کے) بھاؤ چرح گئے۔لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بھاؤ چڑھ گئے ہیں،آپ (اشیاء کے) بھاؤ مقرر کر دیجئے۔آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بھاؤ مقرر کرنے والا ہے،وہی تنگی کرنے والا،فراخی کرنے والا اور رازق ہے۔مجھے امید ہے کہ میں جب اپنے رب سے ملوں گا تو کوئی شخص جان و مال کے بارے میں ظلم کی بنا پر مجھ سے کوئی مطالبہ کرنے والا نہیں ہو گا۔