Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 2223 (سنن ابن ماجہ)

[2223]إسنادہ حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ خُوَيْلِدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي يَزِيدُ النَّحْوِيُّ أَنَّ عِكْرِمَةَ حَدَّثَہُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ ﷺ الْمَدِينَةَ كَانُوا مِنْ أَخْبَثِ النَّاسِ كَيْلًا فَأَنْزَلَ اللہُ سُبْحَانَہُ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ فَأَحْسَنُوا الْكَيْلَ بَعْدَ ذَلِكَ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تو (مدینے کے) لوگوں کا ماپ انتہائی برا تھا،پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: (وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِینَ) ماپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔تو انہوں نے اچھے طریقے سے ماپنا شروع کر دیا۔