Sunan ibn Majah Hadith 2299 (سنن ابن ماجہ)
[2299] إسنادہ ضعیف
سنن أبي دا ود (2622) ترمذي (1288)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّ قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي عَنْ عَمِّ أَبِيہَا رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ قَالَ كُنْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَرْمِي نَخْلَنَا أَوْ قَالَ نَخْلَ الْأَنْصَارِ فَأُتِيَ بِيَ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ يَا غُلَامُ وَقَالَ ابْنُ كَاسِبٍ فَقَالَ يَا بُنَيَّ لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ قَالَ قُلْتُ آكُلُ قَالَ فَلَا تَرْم النَّخْلَ وَكُلْ مِمَّا يَسْقُطُ فِي أَسَافِلِہَا قَالَ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ اللہُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَہُ
حضرت رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: جب میں لڑکا تھا تو میں (ایک بار) اپنے کھجوروں کے درختوں پر،یا فرمایا: انصار کے درختوں پر پتھر مار رہا تھا۔مجھے (پکڑ کر) نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: لڑکے! یا فرمایا:: بیتا! تو درختوں پر پتھر کیوں مرتا ہے؟ میں نے کہا: کھانے کے لیے۔آپ نے فرمایا: درختوں پر پتھر نہ پھینکا کر،جو کھجوریں نیچے گری ہوئی ہوں،وہ کھا لیا کر۔پھر میرے سر پر ہاتھ پھیر کر فرمایا: اے اللہ اس کا پیٹ بھر دے۔