Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 2311 (سنن ابن ماجہ)

[2311] إسنادہ ضعیف

مجالد: ضعیف

والسند ضعفہ البو صیري

انوار الصحیفہ ص 462

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاہِلِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَا مِنْ حَاكِمٍ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَلَكٌ آخِذٌ بِقَفَاہُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَاءِ فَإِنْ قَالَ أَلْقِہِ أَلْقَاہُ فِي مَہْوَاةٍ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بھی قاضی لوگوں کے درمیان فیصلے کرتا ہے،قیامت کے دن وہ اس حال میں حاضر ہو گا کہ ایک فرشتے نے اسے گدی سے پکڑ رکھا ہو گا،پھر آسمان کی طرف سر اٹھائے گا،اگر اللہ نے فرمایا: اسے پھینک دے تو فرشتہ اسے (جہنم) کے گڑھے میں پھینک دے گا (جس میں وہ) چالیس سال تک (گرتا چلا جائے گا۔)