Sunan ibn Majah Hadith 2310 (سنن ابن ماجہ)
[2310] إسنادہ ضعیف
أبو البختري سعید بن فیروز لم یسمع من علي رضي اللہ عنہ ولم یدرکہ،قالہ أبو حاتم الرازي (المراسیل ص 74) فالسند منقطع وللحدیث شاھد ضعیف عند أبي داود (3582)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَعْلَی وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللہِ ﷺ إِلَی الْيَمَنِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ تَبْعَثُنِي وَأَنَا شَابٌّ أَقْضِي بَيْنَہُمْ وَلَا أَدْرِي مَا الْقَضَاءُ قَالَ فَضَرَبَ بِيَدِہِ فِي صَدْرِي ثُمَّ قَالَ اللہُمَّ اہْدِ قَلْبَہُ وَثَبِّتْ لِسَانَہُ قَالَ فَمَا شَكَكْتُ بَعْدُ فِي قَضَاءٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن روانہ فرمایا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے روانہ فرما رہے ہیں کہ ان کے فیصلے کروں،حالانکہ میں جوان ہوں (تجربہ کار نہیں)،مجھے تو معلوم نہیں فیصلہ کیسے کیا جاتا ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: آپ ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے اللہ! اس کے دل کو ہدایت دے اور اس کی زبان کو (صحیح بات پ) قائم فرما۔وہ فرماتے ہیں: اس کے بعد مجھے دو شخصوں کے درمیان فیصلہ کرتے وقت کچھی شک پیش نہیں آیا۔