Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 2317 (سنن ابن ماجہ)

[2317]متفق علیہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ،عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ،قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ،وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِہِ مِنْ بَعْضٍ،وَإِنَّمَا أَقْضِي لَكُمْ عَلَی نَحْوٍ مِمَّا أَسْمَعُ مِنْكُمْ،فَمَنْ قَضَيْتُ لَہُ مِنْ حَقِّ أَخِيہِ شَيْئًا،فَلَا يَأْخُذْہُ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَہُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ،يَأْتِي بِہَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ))

ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میرے پاس اپنے تنازعات لے کر آتے ہو۔اور میں ایک انسان ہی ہوں۔شاید کوئی شخص اپنی دلیل کو دوسرے کی نسبت بہتر طور پر بیان کر سکتا ہو۔اور میں تو جو کچھ تم (فریقین اور گواہوں) سے سنتا ہوں اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں،لہذا جس کو میں اس کے بھائی کے حق میں سے کوئی چیز دے دوں تو وہ اسے نہ لے۔میں تو اسے آگ کا ایک ٹکڑا دے رہا ہوں۔قیامت کے دن وہ اسے لے کر حاضر ہو گا۔