Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 2343 (سنن ابن ماجہ)

[2343] إسنادہ ضعیف جدًا

دہثم: ضعیف جدًا (الإصابۃ 218/1 ت 1048) وھو متروک (تقریب: 1831)

ونمران مجہول (تقریب: 7187)

انوار الصحیفہ ص 463

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَعَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ دَہْثَمِ بْنِ قُرَّانٍ عَنْ نِمْرَانَ بْنِ جَارِيَةَ عَنْ أَبِيہِ أَنَّ قَوْمًا اخْتَصَمُوا إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فِي خُصٍّ كَانَ بَيْنَہُمْ فَبَعَثَ حُذَيْفَةَ يَقْضِي بَيْنَہُمْ فَقَضَی لِلَّذِينَ يَلِيہِمْ الْقِمْطُ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ أَخْبَرَہُ فَقَالَ أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ

نمران بن جاریہ اپنے والد (حضرت جاریہ بن ظفر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے ایک جھونپڑی کے بارے میں نبی ﷺ کی خدمت میں دعوی کیا۔وہ (جھونپڑی) دونوں فریقوں کے استعمال میں تھی۔رسول اللہ ﷺ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو ان کا فیصلہ کرنے کے لیے بھیجا۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے حق میں فیصلہ دیا جن کی طرف سر کنڈے کا نرم حصہ تھا۔جب وہ واپس نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو (اس فیصلے کی) خبر دی تو آپ نے فرمایا: تو نے درست (فیصلہ) کیا اور اچھا فیصلہ کیا۔