Sunan ibn Majah Hadith 289 (سنن ابن ماجہ)

[289] إسنادہ ضعیف

عثمان بن أبی العاتکۃ: ضعیف

انوار الصحیفہ ص 386

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ تَسَوَّكُوا فَإِنَّ السِّوَاكَ مَطْہَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ مَا جَاءَنِي جِبْرِيلُ إِلَّا أَوْصَانِي بِالسِّوَاكِ حَتَّی لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيَّ وَعَلَی أُمَّتِي وَلَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِي لَفَرَضْتُہُ لَہُمْ وَإِنِّي لَأَسْتَاكُ حَتَّی لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أُحْفِيَ مَقَادِمَ فَمِي

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’مسواک کیا کرو کیوں کہ مسواک منہ صاف کرنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے والی ہے۔جبریل علیہ السلام جب بھی میرے پاس آئے،مسواک کی تاکید ضرور کی حتی کہ مجھے خوف محسوس ہوا کہ مجھ پر اور میری امت پر وہ(مسواک) فرض کر دے جائے گی۔اور اگرمجھے امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں اسے ان پر فرض کر دیتا۔میں تو اس قدر مسواک کرتا ہوں کہ مجھے خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ منہ کا اگلا حصہ چھیل ڈالوں گا۔‘‘