Sunan ibn Majah Hadith 304 (سنن ابن ماجہ)

[304] إسنادہ ضعیف

سنن أبي داود (27) ترمذي (21) نسائي (36)

انوار الصحیفہ ص 387

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللہِ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّہِ فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْہُ قَالَ أَبُو عَبْد اللہِ بْن مَاجَةَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيَّ يَقُولُ إِنَّمَا ہَذَا فِي الْحَفِيرَةِ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا فَمُغْتَسَلَاتُہُمْ الْجِصُّ وَالصَّارُوجُ وَالْقِيرُ فَإِذَا بَالَ فَأَرْسَلَ عَلَيْہِ الْمَاءَ لَا بَأْسَ بِہِ

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’کوئی شخص اپنے غسل خانے میں ہرگز پیشاب نہ کرے،کیوں کہ زیادہ تر وسوسے اسی وجہ سے پیداہوتے ہیں۔‘‘ جناب علی بن محمد طنافسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حکم ایسے(کچے) غسل خانوں کے بارے میں ہے جن کا پانی گڑھے میں جمع ہوتا ہے۔آج کل یہ حکم نہیں۔چونکہ اب لوگ غسل خانوں کی تعمیر میں چونا،قلعی اور تار کول استعمال کرتے ہیں،(اس لئے پختہ فرش پر پانی نہیں ٹھہرتا اور ایسی دیواروں میں جذب بھی نہیں ہوتا) لہٰذا جب آدمی پیشاب کر کے اس جگہ پانی بہا دے تو کوئی حرج نہیںَ