Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 3410 (سنن ابن ماجہ)

[3410]صحیح

صحیح مسلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ،عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ،عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ،عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ: ((غَطُّوا الْإِنَاءَ،وَأَوْكُوا السِّقَاءَ،وَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ،وَأَغْلِقُوا الْبَابَ،فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَحُلُّ سِقَاءً،وَلَا يَفْتَحُ بَابًا،وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً،فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ،إِلَّا أَنْ يَعْرُضَ عَلَی إِنَائِہِ عُودًا،وَيَذْكُرَ اسْمَ اللہِ،فَلْيَفْعَلْ،فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ،عَلَی أَہْلِ الْبَيْتِ بَيْتَہُمْ))

حضرت جا بر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے ’ رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا:‘‘ برتن ڈھا نپ دیا کرو ’ مشکیزے کا منہ با ند ھ دیا کرو ’ چراغ بجھا دیا کرو اور دروازہ بند کردیا کرو کیو نکہ شیطان (منہ بند) مشک دروازخ نہیں کھو لتا اور (ڈھا نپے ہوئے) بر تن کو نہیں کھو لتا۔اگر کسی کو برتن پر رکھنے کے لیے لکڑی (درخت کی پتلی شاخ وغیرہ) کے سوا کچھ نہ ملے تو اسے ہی اللہ کا نا م لے کے کر رکھ دے۔(چراغ بجھا دیا کرو) اس لیے کہ ننھی شر یر چو ہیا گھر کو آگ لگا کر (گھر کو یا گھر والوں کو) جلادیتی ہے۔’’