Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 3532 (سنن ابن ماجہ)

[3532] إسنادہ ضعیف

انظر الحدیثان السابقان (3028،3031)

انوار الصحیفہ ص 504

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ،عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ،عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ،عَنْ أُمِّ جُنْدُبٍ،قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ رَمَی جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ،مِنْ بَطْنِ الْوَادِي يَوْمَ النَّحْرِ،ثُمَّ انْصَرَفَ وَتَبِعَتْہُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ،وَمَعَہَا صَبِيٌّ لَہَا بِہِ بَلَاءٌ لَا يَتَكَلَّمُ،فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ،إِنَّ ہَذَا ابْنِي وَبَقِيَّةُ أَہْلِي،وَإِنَّ بِہِ بَلَاءً لَا يَتَكَلَّمُ فَقَالَ: رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((ائْتُونِي بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ))،فَأُتِيَ بِمَاءٍ فَغَسَلَ يَدَيْہِ وَمَضْمَضَ فَاہُ ثُمَّ أَعْطَاہَا،فَقَالَ: ((اسْقِيہِ مِنْہُ،وَصُبِّي عَلَيْہِ مِنْہُ،وَاسْتَشْفِي اللہَ لَہُ)) . قَالَتْ: فَلَقِيتُ الْمَرْأَةَ فَقُلْتُ: لَوْ وَہَبْتِ لِي مِنْہُ،فَقَالَتْ: إِنَّمَا ہُوَ لِہَذَا الْمُبْتَلَی،قَالَتْ: فَلَقِيتُ الْمَرْأَةَ مِنَ الْحَوْلِ فَسَأَلْتُہَا عَنِ الْغُلَامِ،فَقَالَتْ: بَرَأَ وَعَقَلَ عَقْلًا لَيْسَ كَعُقُولِ النَّاسِ

حضرت ام جندب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: میں نے قربانی کے دن رسو ل اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے وادی کے نشیبی حصے میں کھڑے ہو کر بڑے جمرے پر کنکریاں ماریں،پھر واپس ہوئے۔قبیلہ خشعم کی خاتون آپ کے پیچھے چل پڑی۔اس کے پاس ایک بچہ تھا جسے آپ کی شکایت تھی اور وہ بات نہیں کرتا تھا۔اس خاتون نےعرض کی: اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا ہے اور میرے گھر میں یہی باقی بچا ہے اور اسے آسیب ہے،یہ کلام نہیں کرتا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میرے پاس تھوڑا سا پانی لاؤ۔‘‘ پانی لایا گیا۔نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ دھوئے اور کلی کی،پھر (یہ مستعمل پانی) اسے دے دیا اور فرمایا،:’’کچھ پانی اسے پلادینا،کچھ اس کے اوپر ڈال دینا،اور اس کےلیےاللہ سے شفا کی دعا کرنا۔‘‘ام جندب رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں اس عورت سے ملی اورکہا:اس میں سے تھوڑا سا (متبرک پانی مجھے بھی دے دو۔اس نے کہا: یہ تو اس بیمار کے لیےہے۔ام جندب نے فرمایا: ایک سال بعد اس عورت سے میری ملاقات ہوگئی تو میں نے اس لڑکے کےبارہ میں پوچھا۔اس نے کہا: وہ صحت یاب ہوگیا ہے او رایسا عقل مند ہوگیاہے جو (عام)لوگوں کی طرح نہیں (بلکہ ان سےبڑھ کر عقل مند ہوگیا ہے۔)