Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 3667 (سنن ابن ماجہ)

[3667] إسنادہ ضعیف

علتہ الإنقطاع بین سراقۃ وعُلَيّ کما صرح بہ البوصیري وغیرہ

فالسند منقطع

انوار الصحیفہ ص 508، 509

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَيٍّ سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَی أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ ابْنَتُكَ مَرْدُودَةً إِلَيْكَ لَيْسَ لَہَا كَاسِبٌ غَيْرُكَ

حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے افضل صدقہ نہ بتاؤ؟تیری بیٹی جو (بیوہ ہوکر طلاق ہوجانے کی وجہ سے)تیرے پاس واپس آجائے،اور تیرے سوا اس کا کوئی کمانے والا نہ ہو۔(اس کے اخراجات برداشت کرنا افضل صدقہ ہے)